تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 415
اَحْسَنَ مَثْوَايَ١ؕ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ۰۰۲۴ پناہ (چاہتاہوں) وہ یقیناً میرا رب ہے اس نے (ہی )میری رہائش کی جگہ اچھی بنائی ہے بات یہ (ہی) ہے کہ ظالم کامیاب نہیںہوا کرتے۔حل لغات۔راود رَاوَدَہُ شَاءَ ہٗ اسے چاہا۔اس کا خواہاں ہوا۔وَعَنْ نَفْسِہٖ وَعَلَیْہَا خَادَعَہٗ۔اسے دھوکہ دے کر اس پر قابو پانے کی کوشش کی۔وَفِی الْقُرْاٰنِ وَرَاوَدَتْہُ الَّتِی ھُوَفِیْ بَیْتِہَا عَنْ نَّفْسِہٖ۔اَیْ طَلَبَتْ مِنْہُ الْمُنْکَرَ اور قرآن کریم کی آیت میں اس کے یہ معنے ہیں کہ اس سے بدی کروانی چاہی اور اس سے بدی کے ارتکاب کی طالب بنی۔(اقرب) وَالْمُرَاوَدَۃُ اَنْ تُنَازِعَ غَیْرَکَ فِی الْاِرَادَۃِ فَتُرِیْدُ غَیْرَمَا یُرِیْدُ اَوْتَرُوْدَ غَیْرَ مَایَرُوْدُ۔مُرَاوَدَۃٌ۔(رَاوَدَ کی مصدر) کے معنے یہ ہیں کہ جو بات ایک شخص کرنا چاہتا ہو اس کے خلاف اس سے چاہنا اور اس سے کروانے کی کوشش کرنا۔وَرَاوَدَتْ فُلَانًا عَنْ کَذَا اور اس کا صلہ عن آتا ہے۔قَالَ تُرَاوِدُ فَتَاھَا عَنْ نَفْسِہٖ اَیْ تَصْرِفُہٗ عَنْ رَّایِہٖ۔جیسا کہ اس آیت میں تُرَاوِدُ کا لفظ ہے جس کے معنے ہیں وہ اسے اس کی رائے اور اس کی مرضی سے ہٹانا اور اس کے خلاف اس سے کروانا چاہتی ہے۔(مفردات) ھَیْتَ ھَیْتَ لَکَ اَیْ ھَلُمَّ لَکَ وَتَعَالَ۔آجا (اقرب) تَھَیَّأتُ لَکَ۔میں تیرے لئے تیار اور آمادہ ہوں۔(مفردات) تفسیر۔حضرت یوسفؑ اس عورت کے فریب میں نہیں آئے اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اس عورت کے فریب میں نہیں آئے۔پس بعض مفسرین کا یہ قول کہ وہ اس کے فریب میں آنے لگے تھے۔درست نہیں۔اِنَّهٗ رَبِّيْۤ سے مراداس عورت کا خاوند نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہے رَبِّيْۤ سے مراد اس جگہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔جن لوگوں نے اس کی تفسیر حاجب کی ہے درست نہیں۔بے شک حاجب نے ان کو عزت کی جگہ دی تھی مگر اس تک پہنچنا اور اس کے دل میں اس خیال کا پیدا ہونا بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کے فضل سے تھا اور حضرت یوسف علیہ السلام جیسے انسان کے متعلق یہ گمان بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ گناہ سے بچنے کا ذریعہ انسانی احسانات کو بنائیں گے نہ کہ الٰہی فضلوں کو جو کچھ انہیں ملا تھا اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے ماتحت ملا تھا۔پس اسی کو وہ اپنے تقویٰ کا موجب قرار دیتے ہیں اور گناہ میں اس کے احسانات کی ناشکری محسوس کرتے ہیں۔