تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 414
طرف اسے عزت ملے اور دوسری طرف یہ مشکلات میں پڑے اور روحانیت میں ترقی کرے کیونکہ روحانیت کے لئے تکالیف کا آنا بھی ضروری ہے وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ کے آگے لِنُکَرِّمَہُ کا جملہ محذوف ہے۔اَیْ لِنُکَرِّمَہُ وَلِنُعَلِّمَہٗ اور اس پر لِنُعَلِّمَہٗ سے پہلی واؤ دلالت کرتی ہے۔مشکلات میں پڑنا روحانی علوم کا موجب ہوتا ہے یعنی ہم نے یوسف علیہ السلام کو اس لئے اس افسر کے ہاں جگہ دی کہ تا اس کی عزت بھی ہو اور مشکلات میں پڑ کر روحانی علوم بھی اس پر کھلیں۔کیونکہ اس شخص کی بیوی سے جھگڑا پیدا ہوکر حضرت یوسف علیہ السلام نے خاص مجاہدات میں سے گزرنا تھا۔وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِي اور جب وہ اپنی قوت (اور مضبوطی کی عمر )کو پہنچا تو ہم نے اسے فیصلہ (کرنے کا منصب )اور( خاص) علم بخشا۔الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۲۳ اور (حقیقی )نیکوکاروں کو ہم اسی طرح جزا دیا کرتے ہیں۔حلّ لُغَات۔اَشُدَّ بَلَغَ فُلَانٌ اَشُدَّہُ اَیْ قُوّتَہُ وَھُوَمَابَیْنَ ثَمَانِیَ عَشْرَۃَ اٰلِی ثَلَاثِیْنَ سَنَۃً یعنی اَشُدَّ کے معنے قوۃ کے اور اس عمر کے ہوتے ہیں جس میں انسان پورے زور پر ہوتا ہے۔وَالْمَشْہُورُ انَّ ذٰلِکَ بِمَعْنَی الْاِدْرَاکِ وَالْبُلُوْغِ اور زیادہ مشہور یہ ہے کہ اس کے معنے بلوغت کے ہوتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔یہ مطلب نہیں کہ جوان ہوتے ہی نبوت کے مقام پر پہنچ گئے۔قرآن کریم کا طرز ہے کہ بعض دفعہ درمیانی واقعات کو چھوڑ کر انجام کو لے لیتا ہے۔وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ اور جس (عورت) کے گھر میں وہ( رہتا) تھا اس نےاس سے اس کی مرضی کے خلاف (ایک) فعل کروانا چاہا۔اور الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَيْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّيْۤ (اس مکان کے )تمام دروازے بند کر دئیے اور کہا (میری طرف) آ جا۔اس نے کہا (میں ایسا کرنے سے) اللہ کی