تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 416

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ اور اس( عورت) نے اس کے متعلق (اپنا) ارادہ پختہ کر لیا اور اس نے اس کے متعلق (اپنا)ا رادہ پختہ کر لیا (اور) اگر كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ اس نے اپنے رب کا روشن نشان نہ دیکھا ہوتا (تو وہ ایسا عزم نہ کر سکتا) اسی طرح پر (ہوا) تاکہ ہم اس سے(ہر ایک) عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ۰۰۲۵ بدی اور بے حیائی (کی بات) کو دور کر دیں (اور)وہ یقیناً ہمارے برگزیدہ (اور پاک کئے ہوئے )بندوں میں سے تھا۔حلّ لُغات۔ھَمَّ ھَمَّ بِالشَّیْءِ نَوَاہُ وَاَرَادَہٗ وَعَزَمَ عَلَیْہِ وقَصَدَہٗ وَلَمْ یَفْعَلْہُ۔پختہ ارادہ اور عزم کر لیا مگر عمل میں نہ لایا۔(اقرب) اَخْلَصَ اَخْلَصَ الشَّیْءَ۔اِخْتَارَہٗ وَاَخْلَصَہُ اللہُ جَعَلَہٗ مُخْتَارًا خَالِصًا من الدَّنَسِ۔اَخْلَصَ کے معنے ہیں اسے چن لیا۔اللہ تعالیٰ نے اسے برگزیدہ اور ہر ایک میل سے پاک کیا۔(اقرب) تفسیر۔هَمَّ بِهٖ سے کیا مراد ہے جیسا کہ حل لغات میں لکھا گیا ہے ھَمَّ بِہٖ کے معنے مضبوط ارادہ کرنے کے ہوتے ہیں۔گو ساتھ ہی یہ اشارہ بھی ہوتا ہے کہ جس کام کا ارادہ کیا تھا اسے پورا نہیں کیا۔خواہ اس وجہ سے کہ حالات بدل گئے خواہ اس سبب سے کہ روکیں پڑ گئیں۔اس آیت میں بتایا ہے کہ عزیز کی بیوی نے حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق ایک ارادہ کیا لیکن وہ اسے پورا نہ کرسکی۔اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے اس کے متعلق ایک ارادہ کیا لیکن وہ بھی اس ارادہ کو پورا نہ کرسکے۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے یہ مراد ہے کہ دونوں نے آپس میں بدی کا ارادہ کیا(درمنثور زیر آیت ھذا الجزءالرابع صفحہ ۱۳) لیکن یہ درست نہیں کیونکہ اس کی نفی پہلی آیت میں ہوچکی ہے۔وہاں اللہ تعالیٰ فرماچکا ہے کہ یوسف کو عزیز کی بیوی نے اس کے دلی خیالات کے خلاف پھسلانا چاہا لیکن اس پر اس کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا بلکہ اس نے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اس کام کے بدانجام سے اس عورت کو بھی ڈرایا۔پس اس آیت کی موجودگی میں ھَمَّ بِہٖ کے یہ معنے کسی طرح نہیں کئے جاسکتے کہ یوسفؑ نے اس عورت سے کسی بری بات کا ارادہ کیا۔