تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 413

کے یہ معنے ہیں کہ اسے قدرومنزلت بخشی اور مکین صاحب عزت انسان کو کہتے ہیں۔(مفردات) مَکَنَ فَلَانٌ عِنْدَالسُّلْطَانِ مَکَانۃً: عَظُمَ عِنْدَہٗ وَارْتَفَعَ وَصَارَ ذَامَنْزِلَۃٍ (یعنی مَکّن کے مجرد) مَکَنَ کے معنے ہیں اس نے قدرومنزلت پائی۔(اقرب) تَأْوِیْلُ اَلتَّأْوِیْلُ مِنَ الْاَوْلِ بمعنے اَلرُّجُوْعُ اِلَی الْاَصْلِ تَأْوِیْلٌ کا لفظ اَوْلٌ میں سے باب تفعیل کا مصدر ہے جس کے معنے ہیں کسی چیز کا اپنے اصل کی طرف رجوع کرنا۔وَذٰلِکَ ھُوَرَدُّالشَّیْءَ اِلَی الْغَایَۃِ الْمُرَادَۃِ مِنْہُ۔عِلْمًا کَانَ اَوْفِعْلًا۔اور تاویل کے معنے ہیں کسی چیز کو اس کے اصل مقصود اور غایت کی طرف لوٹانا خواہ اس کا تعلق ذہن اور دماغ سے ہو یا دیگر اعضاء سے۔(مفردات) اَلتَّاوِیْلُ :اَلْعَاقِبَۃُ۔انجام۔بَیَانُ اَحَدِ مُحْتَمِلَاتِ اللَّفْظِ کسی لفظ کے احتمالی معانی میں سے کسی ایک معنے اور مراد کی تعیین کرنا۔اَوَّلَ الشَّیْءَ اِلَیْہِ۔رَجَّعَہٗ وَمِنْہُ اَوَّلَ اللہُ عَلَیْکَ ضَالَّتَکَ اَیْ رَدَّعَلَیْکَ ضَالَّتَکَ۔اَوَّلَ کے معنے ہیں کسی چیز کو اس کی اپنی جگہ پر واپس لایا۔چنانچہ جب کسی کی کوئی چیز گم ہوجائے تو اسے دعاء کے طورپر کہا جاتا ہے اَوَّلَ اللہُ عَلَیْکَ ضَالَّتَکَ۔اللہ تعالیٰ تیری گم شدہ چیز تیرے پاس واپس لائے۔وَالْکَلَامَ دَبَّــرَہٗ وَقَدَّرَہٗ وَفَسَّرَہٗ اور جب اس کا مفعول کوئی کلام ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں اس میں تدبر کرکے اس کی اصل مراد کو ظاہر کیا۔والرُّؤْیَا عَبَّرَھَا اور جب اس کا مفعول رؤیا ہو تو اس کے معنے تعبیر کرنے کے ہوتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔مصر میں یوسفؑ کو شاہی باڈی گارڈ نے خریدا تھا جب قافلہ مصر میں پہنچا تو اس نے یوسفؑ کو اچھی قیمت پر فروخت کیا۔اور جس شخص نے انہیں خریدا اس کا نام یہودی کتب سے فوطی فار معلوم ہوتا ہے۔یہ شخص شاہی گارڈ کا افسر تھا۔پرانے زمانہ میں باڈی گارڈ کا افسر سب سے بڑا عہدہ دار ہوتا تھا۔چنانچہ اسلامی عہدحکومت میں بھی حاجب اور کاتب یعنی باڈی گارڈ کا افسر اور پرائیویٹ سیکرٹری سب سے بڑے عہدے سمجھے جاتے تھے۔عباسی خلفاء کے آخر زمانہ میں حاجب کا درجہ کاتب سے بڑا سمجھا جاتا تھا۔یوسفؑ کے متعلق اس کا اپنی بیوی کو تاکید کرنا جس وقت اس شخص نے حضرت یوسف علیہ السلام کو خریدا تو آپ کی شکل اور عادات سے آپ کی شرافت کا قائل ہو گیا اور بیوی کو نصیحت کی کہ اسے عام خادموں کی طرح نہ سمجھنا بلکہ عزت کے ساتھ رکھنا کیونکہ ممکن ہے کہ اس کی لیاقت سے ایک دن ہم فائدہ اٹھائیں یا اگر خاص لیاقت کا لڑکا ثابت ہو تو ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنالیں۔اس افسر کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں اولاد نہ تھی۔وَ لِنُعَلِّمَهٗ کا معطوف علیہ کیا ہے وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ۔یعنی ہم نے یہ اس لئے کیا کہ تا ایک