تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 412

انہوں نے یوسف کو کنوئیں سے نکالا اور اپنے ساتھ لے چلے۔جب وہ یعقوب کے بیٹوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے یوسف کو دیکھ لیا اور پکارے دیکھو تم اس غلام کو جسے ہم نے کنوئیں میں اس کی نافرمانی کی وجہ سے ڈالا تھا کیوں چرا کر لے چلے ہو۔لاؤ اسے ہمارے حوالہ کرو۔‘‘ اس حوالہ کا مضمون قرآن کریم کے بالکل مطابق ہے۔اور بائبل جس نے اس واقع کے بیان کرتے وقت تین چار آیتوں میں ہی کئی ٹھوکریں کھائی ہیں کوئی حق نہیں رکھتی کہ اسے اس دوسرے بیان پر جو عقلاً بھی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے ترجیح دی جائے۔وَ قَالَ الَّذِي اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ اور مصر (کے باشندوں) میں سے جس (شخص) نے اسے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کی رہائش کی جگہ عَسٰۤى اَنْ يَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا با عزت بناامید ہے کہ یہ (لڑکا) ہمارے لئے نفع رساں (ثابت) ہو گا یا ہم اسے (اپنا) بیٹا (ہی)بنا لیں گے اور اس لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ١ٞ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ١ؕ طرح سے ہم نے یوسف کواس ملک میں (قدر و)منزلت بخشی اور (ہم نے اسے یہ عزت کا مقام) اس لئے( بھی دیا) وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۰۰۲۲ تاکہ ہم( اپنی )باتوں کی اصل ؎ حقیقت کاعلم اسےدیں۔اور اللہ (تعالیٰ) اپنی بات (کو پورا کرنے) پر( کامل) اقتدار رکھتا ہے لیکن اکثرلوگ (اس حقیقت کو) جانتےنہیں۔حلّ لُغَات۔مَثْوٰی۔مَثْوٰی ثَوَاءٌ میں سے مصدر میمی یا اسم ظرف ہے جس کے معنے ہیں اَلْاِقَامَۃُ مَعَ الْاِسْتَقْرَارِ۔کسی جگہ رہائش اختیار کرنا ٹھہرنا۔(مفردات) اَلْمَثْوٰی۔اَلْمَنْزِلُ۔اترنے اور ٹھہرنے کی جگہ (اقرب) مَکَّنْتُہٗ وَمَکَّنْتُ لَہٗ۔فَتَمَکَّنَ۔وَمَکِیْنٌ۔اَیْ مُتَمَکِّنٌ ذُوْقَدْرٍ وَمَنْزِلَۃٍ۔یعنی مَکَّنَہٗ اور مَکّنَ لَہٗ کے ؎ اصل مِنْ کا ترجمہ کیا گیا ہے جو حروف زائدہ میں سے ہے اور تاکید کے طور پر آیا ہے۔