تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 411
صورت میں ضمیر قافلہ والوں کی طرف پھیری جائے گی اور مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے تھوڑی سی قیمت پر یوسف علیہ السلام کو خرید لیا۔بیچنے والے اہل قافلہ نہیں ہو سکتے قرآن مجید کے بیان سے یہ ظاہر ہے کہ اس جگہ پر بیچنے والے یوسف علیہ السلام کے بھائی ہیں۔اہل قافلہ نہیں کیونکہ اہل قافلہ کے متعلق تو فرمایا ہے کہ جب انہوں نے یوسف علیہ السلام کو پایا تو اَسَرُّوْہُ بِضَاعَۃً اسے قیمتی چیز سمجھ کر چھپا لیا لیکن بعد میں فرماتا ہے كَانُوْا فِيْهِ مِنَ الزَّاهِدِيْنَ وہ اس کے متعلق کوئی رغبت ظاہر نہیں کرتے تھے۔پس معلوم ہوا کہ بیچنے والے قافلہ والے نہ تھے۔بلکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی تھے۔بائبل کی ٹھوکر کا ثبوت خود بائبل میںسے ۙاس واقعہ کے متعلق بھی بائبل اور قرآن مجید کے بیان میں اختلاف ہے۔بائبل تو کہتی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی انہیں کنوئیں میں ڈال کر کھانا کھانے بیٹھے تو انہیں ایک اسماعیلی قافلہ نظر آیا۔اس پر انہوں نے یہ مناسب سمجھا کہ انہیں نکال کر قافلہ کے پاس بیچ دیں۔چنانچہ لکھا ہے۔’’سو انہوں نے یوسف کو کھینچ کے کنوئیں سے باہر نکالا اور اسماعیلیوں کے ہاتھ بیس روپے کو بیچا۔‘‘ (پیدائش باب ۳۷ آیت ۲۸) مگر قرآن مجید کے رو سے یوسف علیہ السلام کو کنوئیں سے نکالنے والے خود قافلہ کے لوگ تھے۔بائبل کی بات کوغلط ثابت کرنے کے لئے اتنا بتا دینا ہی کافی ہے کہ بائبل نے انہی تین چار آیتوں میں سخت متضاد بیان دیئے ہیں۔اسی باب کی آیت ۲۵ اور ۲۷ میں اس قافلہ کو اسماعیلیوں کا قافلہ قرار دیا ہے مگر آیت ۲۸ میں انہیں مدیانی سوداگر ظاہر کیا ہے۔لیکن اسی آیت کے دوسرے حصہ میں پھر انہیں اسماعیلی کہا ہے۔حالانکہ مدیانی اور اسماعیلی نسل میں بہت بڑا فرق ہے۔قرآن مجید کے بیان کی تصدیق طالمود سے بھی ہو جاتی ہے ان چار آیتوں میں غلطی کرنے والی اور قدم قدم پر ٹھوکر کھانے والی کتاب کو ہم کیونکر قرآن پر حاکم ٹھہرا سکتے ہیں؟ پھر قرآن مجید کے بیان کی تصدیق طالمود سے بھی ہوجاتی ہے۔جیواش انسائیکلوپیڈیا میں یوسف لفظ کے نیچے طالمود کا بیان بعینہٖ وہی درج ہے جو قرآن مجید نے ذکر کیا ہے۔پھر طالمود مرتبہ ایچ پولائینو کے صفحہ ۷۴،۷۵ پر لکھا ہے ’’مگر واقع یوں ہوا کہ جب وہ لوگ یوسف کے متعلق گفتگو کررہے تھے ایک مدیانیوں کا قافلہ جو سفر کررہا تھا پانی کے کنوئیں کی تلاش میں آنکلا۔اتفاقاً وہ اسی کنوئیں پر آکر اترے جس میں یوسف کو چھپایا گیا تھا اور وہ ایک خوبصورت اور ہوشیار لڑکے کو اس میں دیکھ کر حیران رہ گئے۔