تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 410

یَابُشْرٰی جیسے ہمارے ہاں واہ واہ کہتے ہیں ویسے ہی عربی زبان میں استعجاب اور عظمت کے لئے بطور مبالغہ یَابُشْرٰی کہتے ہیں۔یَاوَیْلَتٰی اور یٰحَسْرتٰی بھی اسی قسم کے الفاظ ہیں جو افسوس کے موقع پر بولے جاتے ہیں۔اَلْبِضَاعَۃُ۔طَائِفَۃٌ مِّنَ الْمَالِ تُعَدُّ لِلْتِّجَارَۃِ کچھ مال جو تجارت کے لئے تیار کیا جائے۔(اقرب) تفسیر۔اللہ تعالیٰ کا یوسف ؑ کے لئے اس بے کسی کی حالت میں جنگل میں سامان پیدا کرنا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کیسا وفادارانہ سلوک کرتا ہے۔جنگل کے ایک کنوئیں میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے انہیں ڈال دیا۔لیکن معاً اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کر دیا کہ ایک قافلہ آ گیا اور انہوں نے پانی لینے کے لئے ایک آدمی بھیجا اور وہ آدمی اسی کنوئیں پر آگیا جس میں حضرت یوسف علیہ السلام کو ان لوگوں نے ڈال دیا تھا۔اہل قافلہ کے دلوں میں یوسف کی توقیر اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةًسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسے قیمتی چیز سمجھتے تھے اور یوسف علیہ السلام کی شکل سے ہونہاری کے آثار ظاہر تھے۔وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِيْهِ اور( اس کے بعد جب برادران یوسف کو اس کا علم ہوا تو) انہوں نے (اپنا غلام بنا کر) کچھ تھوڑی (سی) قیمت مِنَ الزَّاهِدِيْنَؒ۰۰۲۱ یعنی چندگنتی کے درہموں میں (اسی قافلہ والوں کے پاس اسے) بیچ دیا اوروہ اس (قیمت) سے بالکل بے رغبت تھے۔تفسیر۔یہ بے رغبتی رکھنے والے یوسف کے بھائی تھے مراد یہ کہ جب اس قافلہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو نکالا تو بھائیوں کو پتہ لگ گیا اور انہوں نے اپنا غلام ظاہر کرکے انہیں بیچ دیا۔بائبل سے ثابت ہے کہ بیس روپے پر بیچا تھا۔(پیدائش باب ۳۷ آیت ۲۸) قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ بیچنا روپیہ کمانے کی نیت سے نہ تھا بلکہ صرف دکھاوے کے لئے تھا۔معلوم ہوتا ہے وہ ڈرتے تھے کہ اگر انہوں نے یوسف کو چھڑانے کی کوشش نہ کی تو وہ لوگ سمجھ جائیں گے کہ یہ آزاد ہے۔اور شاید اس کو گھر پہنچا دیں۔اس وجہ سے اسے غلام بتایا اور نکما ظاہر کرکے ادنیٰ قیمت پر اسے بیچ دیا تاکہ قافلہ کو کوئی شبہ نہ ہو ورنہ فروخت کرکے کوئی قیمت لینا ان کے مدنظر نہ تھا۔شَرَوْهُکے معنے خریدنے کے بھی ہوسکتے ہیں شَرَوْهُ کے معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ انہوں نے خریدا اور اس