تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 406
نویں مشابہت آنحضرت ؐ کوبھی ظالم بھائیوں کا مجرم بن کر سامنے آنا پہلے سے دکھایا گیا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قبل از وقت بتا دیا گیا تھا کہ آپؐ کے سامنے آپؐ کے بھائی مجرم بن کر پیش ہوں گے جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو بتایا گیا تھا۔مثال کے طورپر قرآن کریم کی یہ آیت ہے کہ اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ ( القصص:۸۶) وہ خدا جس نے یہ قرآن تجھ پر عمل کے لئے اتارا ہے ضرور تجھے ایک دن اس شہر کی طرف جو لوگوں کا مرجع ہے واپس لائے گا۔یعنے یہاں سے نکلنے کے بعد پھر تم کامیاب واپس آؤ گے۔وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً يَّبْكُوْنَؕ۰۰۱۷ اور عشاء کے وقت وہ روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس آئے۔حلّ لُغَات۔الْعِشَاءُ اَلْعِشَاءُ اَوّلُ الظَّلَامِ۔رات کی تاریکی کا ابتدائی حصہ۔وَقِیْلَ مِنَ الْمَغْرِبِ اِلَی الْعَتَمَۃِ۔اور بعض کہتے ہیں کہ سورج ڈوبنے سے لے کر تاریکی کے پورے طور پر چھا جانے تک کا درمیانی وقت وَقِیْلَ مِنْ زَوَالِ الشَّمْسِ اِلٰی طُلُوْعِ الْفَجْرِ۔اور بعض کہتے ہیں کہ سورج کے ڈوبنے سے لے کر پو پھوٹنے تک کا وقت عشاء ہی ہے۔(اقرب) قَالُوْا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ (اور) کہا( کہ) اے ہمارے باپ (یقین جانیے) ہم جاکر( کھیلنے اور) مقابلۃً دوڑنے لگے اور یوسف کو ہم اپنے مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا سامان کے پاس چھوڑ گئے تو( خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ) اسے (ایک) بھیڑیا کھا گیا اور (یہ تو ہم جانتے ہیں کہ) آپ صٰدِقِيْنَ۰۰۱۸ ہماری بات (کودرست) نہیں ماننے کےگو ہم (اس میں بالکل) سچے( ہی کیوں نہ) ہوں۔تفسیر۔حضرت یوسفؑ کی خورد سالی پرتَرَكْنَا يُوْسُفَاور اَكَلَهُ الذِّئْبُ کی دلالت تَرَكْنَا