تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 407
يُوْسُفَاوراَكَلَهُ الذِّئْبُ سے بھی ظاہر ہوتاہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر ابھی چھوٹی تھی ورنہ سترہ اٹھارہ سال کا لڑکا ہر قسم کی کھیلوں میں شامل ہوسکتا تھا اور بھیڑیا بھی ایک جوان آدمی پر جس کے پاس ہتھیار ہوں حملہ نہیں کیا کرتا سوائے اس کے کہ بھیڑیوں کا ایک گلہ ہو لیکن فلسطین کا علاقہ ایسا نہیں جہاں بھیڑیئے گلوں کی صورت میں پھرتے ہوں۔برادران یوسف کا یہ بیان بھی ظاہر کرتاہے کہ وہ عادی مجرم نہ تھے وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کے بھائی عادی مجرم نہ تھے ورنہ وہ یہ فقرہ نہ کہتے جس سے ان کے جرم کاراز فاش ہو جاتا ہے۔عادی مجرم کبھی اپنے جرم کو ظاہر نہیں ہونے دیتا۔لیکن ان کے منہ سے تو بے اختیار نکل گیا کہ اگر ہم سچے بھی ہوں تو آپ ہماری بات نہیں مانیں گے اور اس طرح انہوں نے خود ہی اپنے جھوٹ پر سے پردہ اٹھا دیا۔وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ اور( اسے یقین دلانے کے لئے وہ) اس کے کرتے پر جھوٹا خون لگا لائے (تھے۔جسے دیکھ کر) اس نے کہا (یہ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ بات درست نہیں) بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لئے کسی (بری) بات کو خوبصورت کر کے دکھلا یا ہے( جسے تم کر عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۰۰۱۹ گزرے ہو)اب اچھی طرح صبر کرنا (ہی میرے لئے مناسب) ہے اور جو بات تم بیان کرتے ہو اس( کے تدارک) کے لئے اللہ (تعالیٰ) ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے (اور اسی سے مانگی جائے گی۔) حلّ لُغَات۔سَوَّلَ۔سَوَّلَتْ سَوَّلَ لَہُ الشَّیْطٰنُ اَغْوَاہُ وَسَھَّلَ لَہٗ۔اسے گمراہ کیا اور برے کام کے ارتکاب کو اس کی نظر میں معمولی بات کرکے دکھایا۔مِنَ السَوَلِ اَیْ الْاِسْتِرْخَاءُ۔یہ لفظ سَوَلَ سے ہے جس کے معنے ڈھیلا ہوجانے کے ہیں۔یُقَالُ ھٰذَا مِنْ تَسْوِیْلَاتِ الشَّیٰطِیْنِ وَمَا تَطْلُبُہٗ وتَسْأَلُہٗ۔یعنی شیطان کی تسویلات سے مراد اس کی گمراہ کن تحریکیں ہیں۔سَوَّلَتْ لَہُ نَفْسُہٗ کَذَازَیَّنَتْہُ لَہٗ وَسَھَّلَتْہٗ لَہٗ وَ ھَوَّ نَتْہُ۔اس کے نفس نے اس کے لئے اس کام کو خوبصورت کرکے یا اسے ایک معمولی بات قرار دے کر اور آسان کرکے