تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 405
نہ ہوئی تو انہوں نے اپنی وہ لونڈی حضرت یعقوب علیہ السلام کو دی کہ تا ان کی نسل چلے اور انہوں نے اس کے بیٹوں کو اپنا بیٹا قرار دیا اور پہلے کا نام دانی رکھا کہ مجھے بھی ایک بیٹا دیا گیا اور دوسرے کا نام تفتانی کہ میں اس کے ذریعہ سے اپنی بہن پر غالب آئی۔یہ بھی میرا ہی بیٹا ہے (پیدائش باب ۳۰ آیت ۱ تا ۸)پھر ان لڑکوں کو خود حضرت یوسف علیہ السلام کی والدہ نے ہی پرورش کیا تھا مگر ان کی سیاہ دلی کو دیکھو کہ اپنی محسنہ کے بیٹے کے قتل کے منصوبے میں شریک ہو گئے۔فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ پھر جب وہ اسے لے گئے اور( جا کر) انہوں نے اسے (کسی) گہرے کنوئیں کی تہ میں ڈالنے کا متفقہ فیصلہ کر لیا وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا ( تو ادھر انہوں نے اپنا ارادہ پورا کیا)اور (ادھر )ہم نےاس کی طرف وحی (کے ذریعہ سے یہ بشارت نازل) کی کہ يَشْعُرُوْنَ۰۰۱۶ تو( محفوظ رہے گااور) انہیں ان کے اس کام سے آگاہ کر ے گا اور وہ (اس بات کو) نہیں سمجھتے تھے۔تفسیر۔مطلب یہ کہ آج ان کو پتہ نہیں کہ ایسا برا سلوک یہ کس کےساتھ کررہے ہیں مگر جب تیرے سامنے کھڑے ہوں گے تو انہیں خوب معلوم ہو جائے گا۔اس سے حضرت یوسف علیہ السلام کی حالت عجز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس وقت ان کے بھائیوں کے ذہن میں بھی نہ آسکتا تھا کہ یہ کتنے بڑھ جائیں گے۔آٹھویں مشابہت آنحضرت ؐ کو بھی ایک کنوئیں کی سی جگہ میں اترنا پڑا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس کنوئیں کے واقعہ میں بھی حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ مشابہت ہے۔آپؐ کو بھی کفار سے تنگ آکر مکہ سے نکلنا پڑا اور ان کے تعاقب کی وجہ سے غارثور میں چھپنا پڑا(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ھجرۃ الرسول ) جو باولی کی طرح پہاڑ کی ایک غار ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے اپنے ہاتھ سے اس میں ڈالا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خود غار میں گھسنا پڑا۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس بارہ میں مشابہت اس واقعہ سے ہو جبکہ آپؐ کو تین سال تک مکہ کے پاس ایک وادی میں محصور کر دیا گیا تھا۔