تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 404
ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک ان کی عمر ابھی چھوٹی ہی تھی ورنہ جنگل میں رہنے والے سترہ برس کے نوجوان زمیندار کے لئے غیر کی حفاظت کی ضرورت نہیں ہوتی۔قَالَ اِنِّيْ لَيَحْزُنُنِيْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ يَّاْكُلَهُ اس نے (یعنے یعقوب نے) کہا تمہارا اسے (اپنےساتھ) لے جانا مجھے یقیناً فکر مند کر تا ہے اور میں (اس بات سے الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ۰۰۱۴ بھی) ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسی حالت میں کہ تم اس سے غافل ہو اسے (کوئی) بھیڑ یا (ہی نہ آ کر) کھا جائے۔تفسیر۔حضرت یعقوب ؑ کو یہ خوف ہونا بھی حضرت یوسف ؑ کو اس وقت بچہ ثابت کرتا ہے حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا کہ اس بات کو خیال کرکے بھی میرا دل افسردہ ہوتا ہے کہ تم اس کو لے جاؤ اور مجھے ڈر ہے کہ اس کو بھیڑیا کھا جائے اور تم اس سے غافل ہو۔اس قول سے ایک تو اس امر کا مزید ثبوت ملتا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک یوسف علیہ السلام کی عمر اس وقت چھوٹی تھی دوسرے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو الہاماً یہ بتا دیا گیا تھا کہ یہ لوگ ایسا منصوبہ کررہے ہیں اس لئے انہوں نے وہی الفاظ استعمال کئے جو بھائیوں نے بطور بہانہ کے تجویز کئے تھے۔قَالُوْا لَىِٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا انہوں نے کہا اگر اس (بات) کے باوجود (بھی) کہ ہم ایک منضبط جماعت ہیں اسے بھیڑیا کھا جائے تو( خدا کی لَّخٰسِرُوْنَ۰۰۱۵ قسم) اس صورت میں ہم یقیناً گھاٹے میں پڑنے والے ہوں گے۔تفسیر۔حسد اور بغض انسان کو کہاں سے کہاں تک پہنچاتا ہے اس واقعہ سے نصیحت پکڑنی چاہیے کہ حسد اور بغض انسان کو کہاں تک پہنچا دیتا ہے۔یوسف علیہ السلام کے د س بھائیوں میں سے دانی اور تفتانی کو تو سخت شرم کرنی چاہیے تھی کیونکہ یہ دونوں حضرت یوسف علیہ السلام کی ماں کی لونڈی کے بیٹے تھے جب ان کے اولاد