تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 403
ان کا باپ اس کے سب بھائیوں سے اسے (یعنی یوسف کو) زیادہ پیار کرتا ہے اس کا کینہ پیدا کیا اور اس سے محبت کی بات نہ کرسکتے تھے۔‘‘ (پیدائش باب۳۷ آیت۴) اس صورت میں یہ بالکل غیرطبعی بات ہے کہ خود حضرت یعقوب علیہ السلام یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں کے پاس بھیجیں۔پس بائبل کا بیان غلط ہے اور قرآن مجید کا بیان ہی صحیح ہے۔حضرت یوسف کی عمر اس واقعہ کے وقت اس آیت سے حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر اس وقت قریباً گیارہ بارہ سال کی معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ الفاظ اتنی ہی عمر کے بچے کے متعلق زیادہ مناسب معلوم ہوتے ہیں۔مگر بائبل کے بیان کے مطابق وہ اس وقت ۱۷ یا ۱۸ سال کے ہوچکے تھے (پیدائش باب ۳۷ آیت ۲)لیکن یہ بات غلط ہے جیسا کہ آگے اس کی تحقیق آئے گی۔اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَّرْتَعْ وَ يَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۰۰۱۳ کل اسے ہمارے ساتھ( سیر کے لئے باہر) بھیجئےوہ ( وہاں) کھلا کھائے (پیئے) گا اور کھیلے گا۔اور ہم یقیناً اس کی حفاظت کریں گے۔حلّ لُغَات۔رَتَعَ رَتَعَتِ الْمَاشِیَۃُ فِی الْمَکَانِ رَتْعًا وَرُتُوْعًا وَرِتَاعًا اَکَلَتْ وَشَرِبَتْ مَا شَاءَ تْ فِی خَصْبٍ وَّسَعَۃٍ۔جانوروں نے عمدہ چراگاہ سے جو کچھ چاہا کھایا اور پیا۔وَالْقَوْمُ اَکَلُوْا مَاشَاءُوا فِی رَغَدٍ۔لوگوں نے جو چاہا بافراغت کھایا۔وَیُقَالُ خَرَجْنَا نَرْتَعُ وَنَلْعَبُ۔اَیْ نُنْعِمُ وَنَلْہُوْ۔اور نَرْتَعُ وَ نَلْعَبُ کے معنے محاورہ میں عیش کرنے اور کھیلنے کے ہوتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔قرآن کریم کے اور بائبل کے بیان میں ساتواں اختلاف۔یوسف کے بھائی کھیتی باڑی بھی کرتے تھے اس لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کھیتی بھی کرتے تھے۔بائبل کہتی ہے کہ وہ صرف جانور ہی چراتے تھے۔لیکن بائبل میں جو پہلا خواب حضرت یوسف علیہ السلام کا بیان کیا گیا ہے اس میں ان کے بھائیوں کے پولے باندھنے کا ذکر ہے(پیدائش باب ۳۷ آیت ۷) اور ایک چھوٹا بچہ جو گھر سے زیادہ باہر نہیں نکلا اور جو شہر میں نہیں رہتا بلکہ اس کا خاندان باقی دنیا سے الگ زندگی بسر کررہا ہے ایسی خواب نہیں دیکھ سکتا تھا جس کا نظارہ اس کی آنکھوں کے آگے نہ آچکا ہو۔پس اس خواب سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا بیان ہی صحیح ہے۔یوسف کی حفاظت کا وعدہ بھی ان کی اس وقت کی عمر پر روشنی ڈالتا ہے اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ سے بھی ظاہر