تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 33
ہوتے بلکہ اس کے معنی اس کی حقیقت کے اظہار کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہےاِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا(الاحزاب:۷۳ ) یعنی ہم نے اس امانت (شریعت) کو آسمان اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا۔مگر انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔وہ یقیناً اپنے نفس پر ظلم کرنے والا اور نتائج سے بے پرواہ ہے۔اس جگہ امانت کے اٹھانے کا ذکر ہے جس کے صرف یہ معنی ہیں کہ وہ اس پر عمل کرکے اس کے نتائج اور اس کی خوبیوں کو ظاہر کرتا ہے۔اسی طرح عرش کے اٹھانے کے یہ معنی ہیں کہ عرش کی حقیقت کو وہ ظاہر کرتے ہیں۔اور یہ ظاہر بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات تنزیہیہ کو انسان نہیں پہنچ سکتا۔سوائے اس طریق کے کہ اس کی صفات تشبیہیہ کے ذریعہ سے اس کا علم ہو۔پس صفات تشبیہیہ صفات تنزیہیہ کی حامل ہیں۔اور ان کی حقیقت سے انسان کو آگاہ کرتی ہیں۔مثلاً خدا تعالیٰ کے سب خوبیوں کے جامع ہونے کا علم ہمیں صرف ان صفات کے ذریعہ سے ہوسکتا ہے جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔جیسے اس کا رب ہونا، رحمن ہونا، رحیم ہونا، مَالِک یَوْمِ الدّین ہونا۔اور یہ سب صفات تشبیہیہ ہیں۔کہ انسانی اخلاق بھی ان کے ہم شکل پائے جاتے ہیں۔اور پھر یہ صفات مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں۔اور اس لئے ان کے جلوے عارضی ہوتے ہیں۔لیکن اگر یہ صفات نہ ہوتیں تو اللہ تعالیٰ کے کامل الصفات ہونے کا کسی قسم کا ادراک بھی خواہ کتنا ہی ادنیٰ ہو ہمیں حاصل نہ ہوسکتا۔رب العرش کے لفظ سے خلق عرش ثابت نہیں ہوتا ایک اور آیت بھی ہے جس سے عرش کے مخلوق ہونے کا استدلال کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ۔سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ۔اَلْاٰیَۃُ (المومنون:۸۷،۸۸ ) یعنی پوچھو کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے۔وہ ضرور جواب میں کہیں گے کہ اللہ۔اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ رب العرش ہے تو معلوم ہوا کہ وہ عرش کا خالق ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ رب کے صرف خالق کے ہی معنی نہیں ہوتے بلکہ صاحب کے معنی بھی ہوتے ہیں۔جیسے رب المال۔پس رب العرش کے معنی ’’والے‘‘ کے ہیں یعنی عرش والا۔جیسے کہ اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے ذُوْالرَّحْمَۃِ (الکہف :۵۹) خدا تعالیٰ رحمت والا ہے۔اور اسی طرح فرمایا ہےقُلْ لِلّٰہِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا (الفاطر:۱۱) حالانکہ رحمت اور عزت دونوں اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔اور نہ ذوالرحمت کہنے سے رحمت مخلوق ثابت ہوتی ہے اور نہ لِلہِ الْعِزَّۃُ کہنے سے عزت مخلوق ثابت ہوتی ہے۔پس رب العرش کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ صفات تنزیہیہ بھی رکھتا ہے جس طرح کہ وہ صفات تشبیہیہ رکھتا ہے۔صفات تشبیہیہ کی طرف سمٰوٰت کی پیدائش سے اشارہ کیا ہے۔