تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 393

یہ کلام تو لوگوں کو سنا۔یعنی وہ تجھے بھی سب سے مکرم بنا دے گا اور تیری معرفت لوگوں کو وہ بات سکھائے گا جو پہلے لوگوں کو نہیں سکھائی تھی۔یعنی تو موجودہ زمانہ کے لوگوں سے بھی مکرم ہوگا اور پہلے لوگوں سے بھی۔کیونکہ تجھے وہ کچھ ملے گا جو پہلے انبیاء کو بھی نہیں ملا۔گویا تو بھائیوں کا بھی سردار ہوگا اور اپنے روحانی آباء کا بھی یعنی انبیاء کا بھی۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَنَاسَیِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ(ابن ماجہ کتاب الزھد باب ذکر شفاعۃ)۔جس قدر انسان ہیں جن میں پہلے انبیاء بھی شامل ہیں میں ان سب کا سردار ہوں۔اور سردار کی اطاعت کی جاتی ہے۔اسی طرح فرمایا لَوْکَانَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَہُمَا اِلَّااتّباعیْ۔اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو میری اطاعت کے بغیر ان کو چارہ نہ ہوتا۔(تفسیر ابن کثیر سورۃ آل عمران :۸۱ واذ اخذ اللہ میثاق۔۔) غرض سب سے پہلی وحی ہی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تھا کہ آپؐ کے بھائی اور آپ کے بزرگ خواہ وہ کتنے پرانے ہوں سب آپؐ کے ماتحت ہوں گے اور آپ سب کے سردار ہوں گے۔دوسری مماثلت۔سب سے پہلی وحی اپنے قومی بزرگ ورقہ بن نوفل کو سنانا دوسری مشابہت یہاں سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح یوسف علیہ السلام نے اپنی رؤیا اپنے باپ کو سنائی تھی اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پہلی وحی حضرت خدیجہؓ کے کہنے پر اپنے خاندان کے ایک بزرگ کو سنائی جن کا نام ورقہ بن نوفل تھا(بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی علٰی رسول اللہ )۔قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا اس نے کہا اے میرے پیارے بیٹے اپنی (یہ) رؤیا اپنے بھائیوں کے پاس نہ بیان کیجیؤ ورنہ وہ تیرے متعلق لَكَ كَيْدًا١ؕ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۰۰۶ (ضرور) کوئی( مخالفانہ) تدبیر کریں گے شیطان انسان کا یقیناً (کھلم) کھلا دشمن ہے۔حلّ لُغات۔بُنَیَّ بُنَیَّ اِبْنِیْ کی تصغیر ہے جو یاء ضمیر متکلّم کی طرف مضاف ہے۔اور تصغیر کے صیغہ سے مراد چھوٹی عمر کا بچہ نہیں بلکہ پیار کے لئے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔باپ بڑی عمر کے لڑکے کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کرسکتا ہے۔کیونکہ باپ کے لئے بیٹا چھوٹا ہی ہوتا ہے اور اس کے پیار کا مستحق۔قرآن کریم میں بڑی عمر کے بیٹوں کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔چنانچہ سورہ ہود میں ہی حضرت نوح ؑ کا قول گزر چکا ہے کہ انہوں نے