تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 392

مصنف کتاب کی رائے ہے کہ سورج سے مراد درحقیقت بادشاہ اور چاند سے مراد وزیر اور گیارہ ستاروں سے مراد اراکین دولت اور رؤسائِ دیار ہیں۔لیکن یہ معنے درست نہیں کیونکہ بادشاہ یوسفؑ کے ماتحت نہیں ہوا۔بلکہ وہ بادشاہ کے ماتحت تھے اور اس کے قوانین پر چلتے تھے۔چنانچہ اس پر قرآن کریم شاہد ہے۔فرماتا ہے مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ (یوسف :۷۷) یوسف علیہ السلام اپنے بھائی کو شاہی قانون کے مطابق نہیں روک سکتے تھے۔(۲) بادشاہ کسی وزیر کا خواہ کتنا ہی احترام کرے اسے سجدہ کے لفظ سے موسوم نہیں کرسکتے کیونکہ وہ احترام اطاعت کا نہیں ہوتا بلکہ شفقت کا ہوتا ہے۔اور سجدہ چونکہ کمال اطاعت کی ظاہری تمثیل کا نام ہے اس لئے اظہار اطاعت کی شکلوں پر ہی مجازاً بھی اس کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔بادشاہ و وزراء ہی کی نہیں بلکہ والدین اور بھائیوں کی اطاعت بھی بڑی چیز ہے اصل بات یہ ہے ماں باپ اور بھائی کی اطاعت بھی بڑی بات ہے کیونکہ عام طور پر ماں باپ اپنی اولاد کے ماتحت نہیں ہوتے۔خواب کا پورا ہونا بھی عظمت کا موجب ہے پھر یہاں تو معاملہ ہی اور ہے۔حضرت یوسفؑ نے بچپن کی عمر میں خواب دیکھا ہے جس پر بتایا گیا ہے کہ ایک دن ان کے بھائی اور ماں باپ ان کی اطاعت میں آجائیں گے۔کون شخص اس قدر عرصہ پہلے یہ بتا سکتا ہے کہ وہ زندہ رہے گا اور ترقی کرے گا اس کے گیارہ بھائی اور ماں باپ بھی زندہ رہیں گے اور ایک دن اس کے حکم کے نیچے آجائیں گے۔حضرت یوسف علیہ السلام نے جب یہ خواب دیکھی ہے ان کی عمر صرف گیارہ بارہ سال کی تھی اور ان کے والد کی عمر پچاس سے اوپر تھی۔پس ایسے وقت کی خواب کا پورا ہونا معمولی ہرگز نہیں کہلاسکتا۔یوسف کے بھائیوں کے نام گیارہ ستاروں کی تعبیر میںمَیں نے بتایا ہے کہ گیارہ بھائی ہیں۔ان کے نام بائبل سے یہ معلوم ہوتے ہیں۔(۱) روبن (۲) سمعون (۳)لاوی (۴)یہودا (۵)دان (۶)نفقانی (۷)جد (۸) آشر (۹)اشکار (۱۰)زبلون (۱۱)بنیامین۔(پیدائش باب ۲۹ ،۳۰ و ۳۵) ان سب کے معنے بھی بائبل نے بتائے ہیں اور سب کے سب عجیب و غریب ہیں۔سوائے بن یامین کے سب نام ماؤں نے رکھے ہیں۔رسول کریمؐ کی مماثلت حضرت یوسفؑ سے سب سے پہلی وحی الٰہی میں اس واقعہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوسف علیہ السلام سے دو مشابہتیں ہیں۔اوّل آپؐ پر بھی غارحراء میں جو سب سے پہلی وحی آئی اس میں آپؐ کی سب قوم پر فضیلت پاجانے کی خبر تھی کیونکہ اس میں فرمایا گیا تھا کہ اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ۔الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ(العلق:۴ تا ۶)۔یعنی سب سے مکرم رب کی مدد سے