تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 386
اَثَرُہٗ بَعْدَ الْبَرْءِ۔زخم اوپر سے اچھا ہوکر اندر سے ازسرنو بھر گیا۔اور اس کا منہ بند رہا۔تَوَرَّمَ وَتَقَیَّحَ۔زخم پھول گیا۔اور اس میں پیپ پڑ گئی۔فُلَانٌ فَسَدَتْ مِعْدَتُہٗ۔اسے بدہضمی ہو گئی۔نَشِطَ۔اس کے جسم میں چستی پیدا ہو گئی۔اور امنگ سے بھر گیا۔فَصُحَ بَعْدَ لُکْنَۃٍ۔بغیر کسی رکاوٹ کے خوب بولنے لگ گیا اور اس کی صفت مشبہ بھی عَرَبٌ ہی آتی ہے۔النَّہْرُ غَمَرَ۔اور جب یہ لفظ نہریا دریا کے لئے بولا جائے تو اس کے معنے ہوتے ہیں بھر گیا۔اور اس کا پانی بہت اونچا ہو گیا۔(اقرب) پس عَرَبٌ مصدر کے ان تمام معانی کا قدر مشترک بھرا ہوا ہونا۔یا بھر جانا ہوا۔جس کے ساتھ یاء نسبت کے لگنے سے اس کے معنے ہوئے خوب بھری ہوئی چیز۔کیونکہ یاء نسبت کے لگانے سے وصفی معنے کے علاوہ مبالغہ کا مفہوم بھی پیدا ہو جاتا ہے اور عَرَبٌ صفت مشبہ کے معنے بھری ہوئی چیز کے ہوئے۔اور جب اس کے ساتھ یاء نسبت لگائی جائے تو جس طرح اَحْمَرُ کے مقابلہ میں اَحْمَرِیُّکے معنے بہت سرخ کے اور عَبْقَرٌ کے مقابلہ میں عَبْقَرِیٌّ کے معنی نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی چیز کے ہوتے ہیں اسی طرح اس کے معنے ہوں گے۔خوب بھری ہوئی چیز اور جب یہ لفظ کسی کتاب کی صفت واقع ہو تو ان معنوں کی رو سے کتابٌ عَرَبیٌّ کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ نہایت پرمعانی کتاب ہے۔کیونکہ جس چیز سے کسی کتاب کو بھری ہوئی کہا جاسکتا ہے وہ اس کے معانی اور مطالب ہی ہوسکتے ہیں۔اور جب ایک زبان کو اس صفت سے موصوف کریں گے تو اس کا یہ مدعا ہوگا کہ اس کے مفردات نہایت ہی کثیرالمعانی اور وسیع مفہوم رکھنے والے ہیں۔اور عَرُبَ عَرَبًا کے معنے ہیں کَانَ عَرَبیًّا خَالِصًا وَلَمْ یَلْحَنْ تَکَلَّمَ بِالْعَرَبِیَّۃِ وَکَانَ عَرَبِیًّا فَصِیْحًا۔زبان کا ہر ایک نقص سے پاک اور خالص عربی اور خوب واضح ہونا۔فصیح عربی بولنا اور اپنے مدعا کو بہت خوبی کے ساتھ واضح کرنا۔(اقرب) اور یائے نسبت کے لگانے سے اس کے معنے نہایت فصیح اور خوب واضح ہر ایک نقص سے بالکل پاک کے ہوجائیں گے۔اور ان معنوں کی مزید وضاحت اس لفظ کی مختلف تصریفات سے بھی ہوتی ہے۔چنانچہ اقرب الموارد میں ہے اَعْرَبَ الشَّیْءَ اَبَانَہٗ وَاَوْضَحَہٗ خوب بیّن اور واضح کر دیا۔عَنْ حَاجَتِہٖ اَبَانَ عَنْھا کھول کر بیان کیا۔کَلَامَہٗ حَسَّنَہٗ وَاَفْصَح وَلَمْ یَلْحَنْ فِی الْاِعْرَابِ۔بات میں حسن پیدا کیا۔اور اسے خوب واضح کیا۔اور تلفظ میں بھی کوئی غلطی نہ کی۔بِحُجَّتِہٖ اَفْصَحَ بِہَا۔اپنی بات خوب کھول کر مدلل طور پر بیان کی۔اور مفردات راغب میں ہے اَلْعَرَبِیُّ اَلْمُفْصِحُ۔عربی کے معنی ہیں اپنے مدعا کو خوب صفائی اور وضاحت کے ساتھ بیان کرنے والا۔