تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 387

وَالْاِعْرَابُ اَلْبَیَانُ۔اور اعراب کے معنے کھولنے اور واضح کرنے کے ہیں۔پس ان معنوں کی رو سے قُرْاٰنٌ عَرَبِیٌّ کے معنی ہوئے ایسی کتاب جو ہمیشہ پڑھی جانے والی اور اپنے مطالب کو نہایت وضاحت کے ساتھ اور مدلل طور پر بیان کرنے والی ہے۔تفسیر۔قرآن کریم بکثرت لکھا بھی جائے گا اور پڑھا بھی جائے گا ان آیات میں نہایت لطیف طور پر دو دعوے قرآن شریف کے متعلق بیان کئے ہیں۔(۱) پہلی آیت میں قرآن کریم کا نام الکتاب رکھ کر بتایا تھا کہ وہ ہمیشہ لکھا جایا کرے گا اور کتابی صورت میں ہی رہے گا۔اور دوسری آیت میں قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا کہہ کر یہ بتایا ہے کہ وہ ہمیشہ پڑھا جائے گا کیونکہ بعض کتب ایسی ہیں جو لکھی تو بہت جاتی ہیں لیکن پڑھی نہیں جاتیں جیسے انجیل کہ چھپتی بہت ہے لیکن پڑھی کم جاتی ہے۔اور بعض کتابیں لکھی کم جاتی ہیں لیکن پڑھی زیادہ جاتی ہیں جیسے گرنتھ وغیرہ۔لیکن کسی کتاب کے پورے طور پر محفوظ رہنے کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ بکثرت لکھی بھی جائے اور پڑھی بھی جائے اور یہ خصوصیت صرف قرآن کریم کو حاصل ہے۔عربی زبان کی بعض خصوصیات عَرَبِیًّا۔یوں تو اس کے معنے عربی زبان کے ہی ہیں لیکن عربی کا لفظ عرب سے نکلا ہے جس کے معنے بھرنے اور کثرت کے ہوتے ہیں اور جیسا کہ حل لغات میں بتایا جاچکا ہے۔ع ر ب سے مشتق الفاظ جتنے بھی ہیں ان سب میں بھرنے اور کثرت کے معنے پائے جاتے ہیں۔پس عربی زبان کو اسی وجہ سے عربی کہتے ہیں کہ اس کے معنوں میں بہت وسعت ہے اور اس کے مادے بہت زیادہ ہیں۔ہر مضمون جو بیان کرنا چاہو اس کے لئے اس میں سامان موجود ہے۔چنانچہ یورپین لوگوں نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ یہ زبان مادوں کے لحاظ سے بہت مکمل اور وسیع ہے۔مثلاً لین پول مشہور مصنف جس نے تاج العروس کا ترجمہ کیا ہے اس کتاب میں حسرت سے لکھتا ہے کہ عربی جیسی زبان ہمیں کوئی نظر نہیں آتی۔لاکھوں مادے عربی زبان میں پائے جاتے ہیں اور ہر مادہ بامعنی ہے جس کے اندر ضرور کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے۔چنانچہ ابن جنی نے جو ایک بہت بڑا ادیب ہے اپنے استاد بوعلی کا یہ دعویٰ بیان کیا ہے کہ عربی زبان کے حروف میں ہی معنوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور مثال کے طور پر اس نے ک۔ل۔م۔کو پیش کیا ہے کہ جب یہ حروف آپس میں مل کر استعمال ہوں تو قوت و طاقت کے معنے ضرور ان میں ملحوظ ہوتے ہیں۔مثلاً مَلِکٌ بادشاہ۔مَلَکٌ فرشتہ۔کَلْمٌ زخم لَکْمٌ تھپڑ وغیرہ۔ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ گو حروف آگے پیچھے ہو گئے ہیں اور معنے بدلتے چلے گئے ہیں لیکن سب کے سب الفاظ میں قوت و طاقت کی طرف اشارہ ہے۔اسی طرح عربٌ کا لفظ ہے اس کے بھی جس قدر مشتقات ہیں سب میں بھرنے اور بہت ہوجانے کے