تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 385

مُبِیْن کے لفظ میں اعتراض اختلاف کا بھی جواب دیا گیا ہے اس لفظ سے ان اعتراضات کا جواب دیا ہے جو قرآن کریم پر آئندہ ہونے والے تھے۔یعنی اس میں پچھلی کتب کی بیان کردہ تاریخ سے اختلاف ہے اور بتایا ہے کہ قرآن کریم کا تو فرض ہے کہ پچھلی کتب کی غلطیوں کو بیان کرے پھر اختلاف کیوں نہ ہو۔اس سورۃ میں لفظ مُبِیْنٌ رکھنے کی وجہ اس سورۃ میں مُبِیْنٌ کا لفظ اختیار کیا گیا ہے اور سورۃ ہود میں فُصِّلَتْ اٰیٰتُہٗ کہا گیا تھا۔اس کی یہ وجہ ہے کہ سورہ ہود میں چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ایسے مضامین کے بیان کئے گئے تھے جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت ہوتی تھی اور یہاں ایک ہی لمبا مضمون چلا جاتا ہے۔پس چونکہ فَصَّلَ کے معنے الگ الگ کرنے کے ہیں وہاں فُصِّلَتْ کا لفظ رکھا گیا اور یہاں مُبِیْنٌ کا لفظ رکھا گیا۔جس کے معنے وضاحت کے ہیں۔اس لفظ میں قرآن کریم کے ذاتی کمال کی طرف بھی اشارہ ہے مُبِیْنٌ کے لفظ سے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ قرآن کریم اپنی ذات میں کامل کتاب ہے اور اپنے دعویٰ کے ثبوت کے لئے بیرونی دلیل کی محتاج نہیں بلکہ خود ہی دعویٰ بیان کرتی ہے اور خود ہی دلیل بھی دیتی ہے۔اس لفظ میں قرآن کریم کی جامعیت کی طرف بھی اشارہ ہے مُبِیْنٌ کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ وصول الی اللہ کے لئے جس قدر امور کی ضرورت ہے ان کو یہ کتاب واضح کردیتی ہے۔اسی طرح تمام وہ امور جو احکام یا اخلاق فاضلہ یا اعتقادات صحیحہ وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں یہ ان سب کو بیان کرتی ہے۔اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۰۰۳ اس (اپنے مطالب کو) خوب واضح کرنے والے قرآن کو یقیناًہم نے اتارا ہے تاکہ تم( اس میں) عقل (اور تدبر) سے کام لو۔حلّ لُغَات۔عَرَبیٌّ عَرَبیٌّ کا لفظ عَرَبٌ کی طرف منسوب ہے۔اور عَرَبٌ عَرِبَ یَعْرَبُ کی مصدر بھی ہے اور صفت مشبہ بھی۔اور نیز یہ عَرُبَ کی مصدر ہے اور یہ ملک عرب کا نام بھی ہے اور اس ملک کی اصلی اور پرانی باشندہ قوم کا نام بھی۔عَرِبَ کے معانی حسب ذیل ہیں۔جن میں سے ہر ایک میں پری اور بھرا ہوا ہونے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔عَرِبَت الْمِعْدَۃُ عَرَبًا تَغَیَّرَتْ وَفَسَدَتْ۔زیادہ کھانے سے فساد معدہ ہو گیا۔عَرِبَ الْجُرْحُ نُکِسَ وَغَفَرَ وَبَقِیَ