تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 381
کیونکہ آپؐ کو اس طرح اپنی قوم کی شرارتوں اور ان کے برے انجام اور آپؐ کی فتوحات کا علم ہو گیا کیونکہ سب انبیاء کا بروز ہونے کے لحاظ سے ضروری تھا کہ ان انبیاء کے حالات میں سے بھی آپؐ گزرتے۔جَآءَكَ فِيْ هٰذِهِ الْحَقُّ کے معنی اور یہ جو فرمایا ہے کہ اس میں تیرے لئے حق آیا ہے اس سے مراد یہ سورۃ ہے اور اس طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ قصے بیان نہیں ہوئے بلکہ ایک پوری ہوکر رہنے والی بات بیان کی گئی ہے۔نیز اس میں وعظ بھی ہے اور مومنوں کے فرائض بھی یاد دلائے گئے ہیں۔وَ قُلْ لِّلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا اور جو( لوگ) ایمان نہیں لائے انہیں کہہ دے کہ تم اپنے درجہ کے مطابق کام کرتے جاؤہم (بھی جیسا کہ دیکھتے ہو عٰمِلُوْنَۙ۰۰۱۲۲ اپنے درجہ کے مطابق) کام کر رہے ہیں۔تفسیر۔اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْکے معنے یعنی جھگڑے فساد کی ضرورت نہیں ہے۔جب ہمارے اعمال الگ الگ ہیں اور ہر اک ان کا ذمہ دار ہے تو نتائج خود بتادیں گے کہ کون حق پر ہے اور کون نہیں۔لڑنے جھگڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ۰۰۱۲۳ اور تم( بھی انجام کا)انتظار کرو۔ہم (بھی) یقیناً انتظار کر رہے ہیں۔تفسیر۔کفار کا عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ غلط ہے یعنی گھبرانا تو ہم کو چاہیےنہ کہ تم کو کیونکہ تمہاری طرف سے دکھ ہم کو دیا جارہا ہے۔مگر ہم صبر سے کام لے رہے ہیں۔اور تم گھبرا رہے ہو۔