تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 380
ہوتی تھی کہ جب انسان کو رحم کے لئے پیدا کیا تھا تو پھر اسے سزا کیوں ملے گی؟ پس اس الجھن کو یوں دور کر دیا کہ بے شک ہم نے انسان کو پیدا تو رحم کے لئے ہی کیا تھا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا تھا کہ جو لوگ شیطان کے پیرو ہوں گے ان کے حق میں رحم کا وعدہ فوراً پورا نہ ہوگا۔بلکہ جو شیطان سے جو ناری وجود ہے تعلق پیدا کریں گے انہیں اس مناسبت کی وجہ سے پہلے آگ میں ڈالا جاوے گا تا انہیں معلوم ہو جائے کہ نوری وجود کو چھوڑ کر انسان اپنے مقام سے کس قدر گر جاتا ہے۔دوزخیوں کے حق میں اس وعدہ کا پورا ہونا دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ میں فرمایا تھا ہم نے انسان کو رحمت کے لئے ہی پیدا کیا ہے۔اس لئے اسے رحمت میں ہی داخل کریں گے۔اس سے سوال پیدا ہوتا تھا کہ ایک حصہ کے لئے تو آپ فرماچکے ہیں کہ میں ان کو جہنم میں داخل کروں گا وہ وعدہ کہاں گیا۔تو اس کے جواب میں فرمایا کہ وہ وعدہ تو پورا ہو چکا ہے اب رحمت کا وعدہ پورا ہوگا۔گویا یہ سوال اس وقت ہوگا کہ جب دوزخیوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ اور ہم (اپنے) رسولوں کی خبروں میں سے اس سارے (کے سارےکلام) کو جس کے ذریعہ سے ہم تیرے دل کو فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِيْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى ثبات بخشنے والے ہیں تیرے پاس بیان کرتے ہیں۔اور ان (خبروں کے ضمن) میں تیرے پاس کامل حق اور لِلْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۱۲۱ مومنوں کےلئے ایک (تسلی بخش) وعظ اور نصیحت آئی ہے۔تفسیر۔قرآن کریم میں انبیاء کی اخبار بطور قصہ نہیں اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے انبیاء کی اخبار بطور تاریخ بیان نہیں ہوئیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو ان میں بطور پیشگوئی بیان کیا گیا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو ان واقعات کے بیان کرنے سے آپ کو تسلی کس طرح ہوسکتی تھی۔ہاں اگر انہیں پیشگوئی کے طور پر سمجھا جائے تو ضرور آپؐ کے لئے وہ واقعات تسلی کا موجب بن جاتے ہیں۔