تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 378
وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ۰۰۱۱۸ اور تیرا رب ایساہرگز نہیں ہے کہ (ملک کی) آبادیوں کو باوجود اس کے کہ ان کے رہنے والے اصلاح (کے کام) کرنے والے ہوں ہلاک کر دے۔حلّ لُغَات۔اِصْلَاحٌ۔اَصْلَحَ ضِدُّ اَفْسَدَ۔فساد کے خلاف معنے دیتا ہے۔اَصْلَحَ الْاَمْرَ۔اَقَامَہٗ بَعْدَ فَسَادِہٖ کام کے خراب ہونے کے بعد اسے درست کر دیا۔اَصْلَحَ بَیْنَ الْقَوْمِ۔وَفَّقَ۔آپس میں اتفاق کرادیا۔اَصْلَحَ اِلَیْہ۔اَحْسَنَ اِلَیْہِ۔اس پر احسان کیا۔(اقرب) تفسیر۔بغیر جرم کے عذاب دینا ظلم ہے اس آیت سے معلوم ہوا کہ بغیر جرم کے عذاب دینا ظلم ہے۔آج مسلمانوں پر عذاب پر عذاب نازل ہورہے ہیں پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ ہم صحیح راستہ پر قائم ہیں۔گویا وہ خدا کو ظالم مگر اپنے آپ کو نیک قرار دیتے ہیں۔اس آیت سے دو سبق حاصل کئے جاسکتے ہیں۔(۱) عذاب بغیر فساد کے نہیں آتا۔پس جب عذاب کے آثار ظاہر ہوں تو ہوشیار ہو جانا چاہیے۔عذاب کو دور کرنے کا گُر (۲)عذاب کو دور کرنے کا گر یہ ہے کہ قوم آپس میں صلح کرلے۔اور نیکی کا وعظ کرنا شروع کر دے۔یعنی آپس میں اتحاد ہو۔اور دوسروں کی بدیاں دور کرنے کی کوشش کی جائے۔یہ علاج ہی حقیقی علاج ہے۔کیونکہ کسی قوم میں تنزل کے آثار پیدا ہوجانے کی دو ہی وجہیں ہوتی ہیں۔(۱) قوم میں تفرقہ ہو۔(۲) اس میں کمزوریاں پیدا ہوجائیں۔جب تنزل کے اسباب کو دور کر دیا جائے گا تو لازماً ترقی ہوگی۔وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا اور اگر تیرا رب اپنی (ہی) مشیت نافذ کرتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت بنا تا اور( چونکہ اس نے ایسا نہیں کیا) يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَۙ۰۰۱۱۹اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔سوائے ان کے جن پر تیرے رب نے رحم کیا ہے۔اور اسی (رحم کا مورد بنا نے کے)