تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 377

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِيَّةٍ پھر( تعجب ہے کہ) کیوں ان قوموں میں سے جو تم سے پہلے (زمانہ میں) تھیں ایسے عقل مند (لوگ) نہ نکلے جو يَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْاَرْضِ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّنْ اَنْجَيْنَا (لوگوں کو) ملک میں بگاڑ پیدا کرنے سے روکتے سوائے چند ایک کے جنہیں ہم نے (ان کے بدیوں سے رکنے اور مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِيْهِ وَ كَانُوْا روکنے کی وجہ سے) بچا لیا۔اور( باقی لوگ) جنہوں نے ظلم( کا شیوہ اختیار) کیا تھا اس (مال و متاع) کے پیچھے پڑ مُجْرِمِيْنَ۰۰۱۱۷ گئے۔جس میں (کہ) انہیں آسودگی بخشی گئی تھی اور مجرم ہو گئے۔حلّ لُغات۔بَقِیَّۃٌ۔اَلْبَقِیَّۃُ مَثَلٌ فِی الْجَوْدَۃ وَالْفَضْلِ۔کمال اور فضل بیان کرنے کے لئے اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں۔یُقَالُ فُلَانٌ بَقِیَّۃُ الْقَوْمِ اَیْ مِنْ خِیَارِھِمْ۔بَقِیَّۃُ الْقَوْمِ کے معنے قوم کے بہترین افراد کے ہوتے ہیں۔اُولُوْا بَقِیَّۃٍ اَیْ مِنَ الرَّأْیِ وَالْعَقْلِ اَوْ اُولُواا لْفَضْلِ۔اُوْلُوا بَقِیَّۃٍ سے مراد اچھی رائے والے عقلمند اور فضیلت والے لوگ ہوتے ہیں۔(اقرب) اَ تْرَفَ أَتْرَفَتِ النِّعْمَۃُ زَیْدًا نَعَّمَتْہُ۔نعمت نے زید کو آسودہ حال کر دیا۔أَطْغَتْہُ وَأَبْطَرَتْہُ نعمت نے اسے سرکش اور متکبر بنا دیا۔(اقرب) تفسیر۔دوسرے لوگوں کی خبر اور فکر نہ رکھنا مستوجب عذاب بنا دیتا ہے یعنی جب ہمیشہ سے یہ قانون چلا آیا ہے کہ اگر لوگوں کی خبر نہ رکھی جائے تو لوگ بگڑتے چلے جاتے ہیں تو کیوں عقلمند لوگوں نے اپنی ذمہ داری کو نہ پہچانا اور اس بدی کے خمیر کو بڑھنے دیا جو آخر قوم کو تباہ کر دیتا ہے۔اور کیوں نہ اس خمیر کو ہی ختم کر دیا۔مگر افسوس کہ بہت کم لوگوں نے اپنی ذمہ داری کو سمجھا اور بجائے اس کے کہ عذاب کی حقیقت پر غور کرکے آئندہ سے اپنی قوم کو عذاب سے بچاتے پہلی تباہ شدہ قوموں کے اموال کے سمیٹنے میں لگ گئے اور خود بھی ظالم بن کر خدا تعالیٰ سے دور جاپڑے۔