تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 379

خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ لئے اس نےانہیں پیدا کیا ہے اور تیرے رب کا (یہ) فرمودہ یقیناً پورا ہو گا (کہ) میں جہنم کو یقیناًان سب جنوں اور الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ۰۰۱۲۰ انسانوں سے (جو اختلاف کا موجب بنتے ہیں )پُر کروں گا۔تفسیر۔نیکی کا نشان صبر میں ترقی ہے اس آیت کو پچھلی آیات سے ملا کر معلوم ہوتا ہے کہ انسان جتنا نیکی میں ترقی کرتا جائے اتنا ہی صبر میں بڑھتا جاتا ہے۔اور جس قدر صبر میں ترقی کرتا ہے اسی قدر خدا تعالیٰ کی رحمتیں اس پر نازل ہوتی ہیں۔انسان کو رحم کے لئے پیدا کیا گیا ہے وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْسے مراد یہی ہے کہ انسان کو رحم کے لئے پیدا کیا ہے۔نہ یہ کہ اختلاف کے لئے پیدا کیا ہے۔کیونکہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےوَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۔(الذاریات :۵۷) اور اسی طرح فرماتا ہے رَحْمَتِيْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف :۱۵۷) وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَکے معنے وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ کا مطلب یہ ہے کہ متبعین شیطان سے جہنم کو بھر دوں گا۔نہ یہ کہ سب انسانوں کو۔کیونکہ اس جگہ ایک وعدے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔پس اس کے وہی معنے لئے جاسکتے ہیں جو اس وعدہ کے مطابق ہوں اور جب ہم اس وعدہ کی تلاش قرآن کریم میں کرتے ہیں تو کہیں بھی ہمیں یہ نظر نہیں آتا کہ میں سب انسانوں کو جہنم میں ڈالوں گا۔بلکہ اس کے برخلاف یہ وعدہ ملتا ہے کہ جب شیطان نے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی تو اس نے فرمایا کہلَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِيْنَ۔کہ تو بے شک انسانوں کو ورغلا مگر یہ یاد رکھ کہ میں انسانوں میں سے جو تیرے تابع ہوں گے ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔(الاعراف:۱۹) پس زیر تفسیر آیت میں سورہ اعراف کے وعدہ کا ہی ذکر ہے۔کیونکہ اس کے سوا اس بارہ میں اور کوئی وعدہ قرآن کریم میں بیان نہیں ہے۔اور اس کے معنے یہی ہیں کہ متبعین شیطان کے ذریعہ سے جہنم کو بھرا جائے گا۔نہ یہ کہ مومنوں کو بھی بلاقصور و بے گنہ اللہ تعالیٰ جہنم میں دھکیل دے گا۔اس وعدئہ الٰہی کے ذکر کی وجہ اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں اس وعدہ کا کیوں ذکر کیا ہے؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بندہ کو رحم ہی کے لئے پیدا کیا ہے۔پس طبعاً اس بیان پر یہ الجھن پیدا