تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 371
نہیں اور اگر کوئی خدا کا بندہ اس مقام کو پالیتا ہے تو اسے کافر و دجال کہنے لگتے ہیں۔اِنَّالِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔نیکی وہی کام دیتی ہے جو مناسب وقت بھی ہو كَمَاۤ اُمِرْتَ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو وہی نیکی کام دے سکتی ہے جو وقت کے مناسب ہو۔نماز کے وقت ذکر الٰہی اور روزہ کے وقت ایسے کام جو روزہ میں روک ہوں اور جہاد کے وقت روزہ جو جہاد میں سست کرے نفع نہیں دے سکتا۔پس انسان کو چاہیےکہ اس امر پر غور کرتا رہے کہ آج کل کون سی نیکی کا زمانہ ہے۔اور اسی طرح مختلف اوقات میں ان نیکیوں پر عمل کرنے کی کوشش کرے جو اس وقت کے مناسب حال ہوں۔زمانہ اور وقت کے لحاظ سے جو نیکی ہوگی وہی اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرے گی۔مجھے تعجب ہے کہ اس آیت کو ایک نادان مفسر نے سورہ نساء کی آیت اُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ الآیۃ کے مطابق قرار دے کر یہ استدلال کیا ہے کہ جس طرح اس آیت کے ماتحت صحابہ خاتم النبیین نہیں بن جاتے اسی طرح سورہ نساء کی آیت سے امت محمدیہ میں نبوت کا دروازہ نہیں کھل جاتا(بیان القرآن زیر آیت ھذا)۔حالانکہ اس جگہ توبہ میں شمولیت کا ذکر ہے نہ ختم نبوت میں۔اب کیا کوئی نادان ہے جو یہ کہے کہ صحابہ تائب نہ تھے صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تائب تھے۔اگر نہیں بلکہ ہر اک کو یہ ماننا پڑتا ہے کہ تائب دونو تھے گو مقام توبہ میں فرق تھا تو سورہ نساء میں کیوں یہ معنے نہیں کئے جاسکتے کہ نبوت کا لفظ دونوں گروہوں پر بولا جائے گا۔گو نبوت کا درجہ مختلف افراد کا مختلف ہوگا۔اس آیت کا اثر آنحضرت ؐ پر اس آیت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اثر کیا تھا وہ تو اس سے ظاہر ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے ھُوْدٌ وَاَخَوَاتُھَا شَیَّبَتْنِیْ قَبْلَ الشَّیْبَ۔(ابن مردویہ بحوالہ درمنثور) مجھے ہود اور اس جیسی سورتوں نے قبل از وقت بوڑھا کر دیا ہے۔کیونکہ آپؐ دیکھتے تھے کہ آپؐ کے ساتھ توبہ کرنے والے لوگ آپؐ کے زمانہ تک ہی محدود نہ تھے بلکہ آپؐ کے بعد قیامت تک آنے والے تھے۔ان لوگوں کی تربیت کی ذمہ داری آپؐ کس طرح اٹھا سکتے تھے۔یہ خیال تھا جس نے آپؐ پر اثر کیا اور آپؐ کو بوڑھا کر دیا۔مگر آپؐ کا یہ تقویٰ اللہ تعالیٰ کو ایسا پسند آیا کہ اس نے یہ کام اپنے ذمہ لیا اور وعدہ کرلیا کہ میں ہمیشہ تیری امت میں سے ایسے لوگ مبعوث کرتا رہوں گا جو تیرے نقش قدم پر چل کر میرا قرب حاصل کریں گے اور تیری طرف سے اس امت کی اصلاح کریں گے۔اس آیت کی رو سے ہمارے لئےاپنے محاسبہ کی ضرورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مقابلہ میں اب ہمیں غور کرنا چاہیےکہ ہم نے کیا کیا ہے ہمارا بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح یہ فرض رکھا گیا ہے کہ اپنے نفس کی اصلاح کے ساتھ دوسرے مومنوں کی اصلاح کا بھی فکر کریں۔