تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 370

کیفیت کی رو سے عظمت اور اس کی عظمت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔جب ہم یہ دیکھیں کہ کیفیت جس کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ بھی نہایت اعلیٰ ہے۔کیونکہ فرماتا ہے کہ استقامت اس طرح ہو جس طرح خدا تعالیٰ نے فرمائی ہے۔ایک کمزور انسان کے لئے رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کے بتائے ہوئے احکام کو کماحقہ ادا کرنا کس قدر مشکل ہے۔استقامت وہی نافع ہوتی ہے جو فرمان الٰہی کے مطابق ہو اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خالی استقامت انسان کو نفع نہیں دے سکتی بلکہ وہ استقامت نفع دیتی ہے جو پوری طرح اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ہو۔بعض لوگ یہ خیال کرلیتے ہیں کہ چونکہ ہم نماز اور روزہ کے پابند ہیں اس لئے اب ہمیں کسی قسم کا خوف نہیں۔حالانکہ نماز اور روزہ اصل میں مطلوب نہیں ہیں مطلوب تو امر الٰہی کے مطابق زندگی بسر کرنا ہے۔یہی نماز اور روزہ جس وقت خدا تعالیٰ کے احکام کے خلاف آجائیں انسان کو شیطان بنادیتے ہیں۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج نکلتے یا اس کے غروب ہوتے وقت شیطان نماز پڑھتا ہے۔یعنی یہ کام شیطانی لوگوں کا ہے(مسلم کتاب المساجد مواضع الصلوۃ باب اوقات الصلوۃ الخمس )۔اسی طرح عید کے دن روزہ رکھنے والے کا نام آپؐ نے شیطان رکھا۔پس حق یہی ہے کہ جب تک انسان کا رویہ پوری طرح اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت نہ ہو اور اس کے اعمال کا محرک صرف خدا تعالیٰ کی رضاء کا حصول نہ ہو اس وقت تک وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث نہیں ہوسکتا۔آنحضرت ؐ کے اسوہ کی اتباع کی اہمیت اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کے لئے آپؐ کی اتباع اور آپؐ کے اسوہ پر چلنا ضروری ہے۔کیونکہ فرماتا ہےفَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ۔جس طرح تجھے حکم دیا گیا ہے اس طرح مستقل طور پر اور لزوم کے ساتھ تو عمل کر اور تیرے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے لوگ بھی اسی طرح عمل کریں۔اس سے معلوم ہوا کہ اصل معیار عمل کا وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔اگر ایسا نہ ہوتا تو مومنوں کے لئے یہ فرماتا کہ وہ اس طرح عمل کریں جس طرح انہیں حکم دیا گیا ہے مگر انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کے تابع فرماکر بتا دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنا ہی مومنوں کا کام ہے اور یہ اتنا بڑا مقام ہے کہ اس کے حصول کے لئے جس قدر بھی انسان کوشش کرے کم ہے۔اگرہمارے لئے کوئی اور راہ ہوتی تو ہم کہہ سکتے تھے کہ ہم نے اپنے درجہ کے مطابق کام کرنا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے درجہ کے مطابق مگر یہ بات نہیں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس مقام پر کھڑے ہونے کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے اس جگہ پر آپؐ کے اتباع کو کھڑا ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔مگر افسوس مسلمانوںکا آج یہ حال ہے کہ خود تو اس مقام پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتے