تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 366
اس کے بدنتائج کو نہ دیکھا حالانکہ ان کا جرم اس قدر عظیم الشان تھا کہ اگر اس سے پہلے ہم ایک فیصلہ نہ کرچکے ہوتے تو انہیں تباہ کردیا جاتا۔پہلے کے فیصلے سے مراد وہ فیصلہ جس کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے وہی ہے جس کا ذکر وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ میں (الذاریات :۵۷) اور رَحْـمَتِیْ وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ(الاعراف :۱۵۷) میں اور اسی قسم کی متعدد اور آیات میں کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بندہ کو روحانی ترقی دینے کے لئے پیدا کیا ہے اور اس کے ساتھ رحم کا سلوک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پس وہ اسے سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا تاکہ لوگ ہدایت سے محروم نہ رہ جائیں۔اِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ کے معنے وَ اِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ سے دو امر کی طرف اشارہ ہے۔اس طرف بھی کہ جو کتاب شک کو دور کرنے کے لئے آئی تھی وہ ان کی اندرونی بیماریوں کی وجہ سے ان کے لئے شک پیدا کرنے کا موجب ہورہی ہے۔اور یہ بھی کہ ہمارے رحم سے بجائے فائدہ اٹھانے کے اور شکر گزار بننے کے یہ لوگ اس قسم کے شکوک میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ یہ کتاب جھوٹی ہوگی تبھی تو اس کے انکار سے سزا نہیں ملتی۔وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا اور تیرا رب یقیناً یقینا ً(اور) ضرور ان سب کو ان کے اعمال (کے پھل) پورے( پورے) دے گا (گو ابھی تک يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۰۰۱۱۲ نہیں دیئے )وہ جوکچھ کرتے ہیں اسے وہ یقیناً جانتا ہے۔تفسیر۔اِنَّ كُلًّا لَّمَّا کے لَمَّا کی تحقیق لغوی اس آیت کے متعلق مفسرین میں معنوی طور پر تو کوئی اختلاف نہیں ہے۔مگر اہل لغت میں تحقیق لفظی کی رو سے اختلاف ہوا ہے۔یہ اختلاف لَمَّا کے لفظ کی وجہ سے ہے کیونکہ لَمَّا اس جگہ بظاہر ایسی صورت میں استعمال ہوا ہے جس میں استعمال نہیں ہوا کرتا۔لَمَّا کے استعمالات لَمَّا کا استعمال تین طرح ہوتا ہے (اول) مضارع پر آتا ہے اور اسے جزم دیتا ہے اور اس کے معنے ماضی منفی کےکردیتا ہے۔جیسے لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (الجمعۃ:۴) وہ ابھی ان سے نہیں ملے۔(دوم) ماضی پر آتا ہے اور دو جملے چاہتا ہے۔جن میں سے پہلے جملہ کے مضمون کے پورا ہونے پر دوسرے کا مضمون پورا ہوتا ہے۔جیسے یہ کہیں کہ لَمَّا جَاءَ نِیْ اَکْرَمْتُہٗ جب وہ میرے پاس آیا میں نے اس کی عزت کی۔ایسے استعمال کے