تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 367
وقت ابن جنی کے نزدیک اس کے معنے حِیْنَ کےہوتے ہیں۔اور ابن مالک کے نزدیک اِذْ کے (سوم) حرف استثناء کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔اور اس صورت میں یہ جملہ اسمیہ پر بھی آتا ہے۔جیسے کہ قرآن کریم میں ہے۔اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ (الطارق:۵) اور ماضی پر بھی آجاتا ہے جو لفظاً تو ماضی ہو لیکن معنیً ماضی نہ ہو جیسے اَنْشُدُکَ بِاللہِ لَمَّا فَعَلْتَ یہاں فَعَلْتَ لفظاً ماضی ہے لیکن معنیً مصدر ہے اور اس سے مراد اِلَّافِعْلَکَ ہے یعنے میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ اس کام کے سوا جو میں تجھ سے چاہتا ہوں اور کام نہ کیجیئو۔(دیکھو مغنی اللبیب لابن ہشام) اس آیت میں یہ لفظ بظاہر ان تینوں استعمالات کے خلاف استعمال ہوا ہے۔نہ اس کے بعد کوئی مضارع اس کا مجزوم بن کر آیا ہے نہ یہ ماضی پر ظرف بن کر آیا ہے کہ اس کے ساتھ دو جملے آئے ہوں۔اور نہ جملہ اسمیہ پر یا صیغہ ماضی بمعنے مصدر پر آیا ہے کہ حرف استثناء کے معنے دیتا ہو۔اس آیت میں لَمَّا کے متعلق نحویوں کے مختلف اقوال ان مشکلات کو دیکھ کر نحویوں نے مختلف خیالات دوڑائے ہیں اور مبرد جیسوں نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ لمَّا کا یہ استعمال محاورۂ عرب کے خلاف ہے۔اور نسائی نے کہا ہے کہ اس کو میں نہیں سمجھ سکا۔ابن جنی نے یہ کہا ہے کہ شاید جس طرح الّا زائد آتا ہے لمّا بھی زائد آتا ہو لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں دیا(روح المعانی زیر آیت ھذا)۔بعض نے اس لفظ کو مرکب قرار دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس جگہ لمّا ایک لفظ نہیں ہے بلکہ لَمَنْ مَّا ہے ن میم سے تبدیل ہوکر تین میموں کے جمع ہوجانے کی وجہ سے حذف ہو گیا ہے۔لیکن یہ بھی درست نہیں۔کیونکہ ایسے میم کو تخفیف کی غرض سے حذف کرنے کا جواز ثابت نہیں ہے۔بعض نے کہا ہے کہ اصل میں یہ لفظ لَمَّ سے ہے جس کے معنے جمع کرنے کے ہوتے ہیں جیسے کہ قرآن کریم میں آیا ہے اَکْلًالَّمَّا۔سب کا سب کھا جاتے ہو۔نون تنوین کو وصل کی خاطر اڑادیا گیا اور لمّا پڑھ لیا گیا(مغنی اللبیب، اللام لمّا)۔لیکن یہ بھی درست نہیں کیونکہ وصل کے موقع پر اسم منصرف سے تنوین کا حذف کرنا بالکل بعید از قیاس ہے۔یہ لَمَّا جازمہ ہے ان تمام توجیہات کو دیکھنے کے بعد درست وہی معلوم ہوتا ہے جو ابن حاجب نے کہا ہے اور وہ یہ ہے کہ لمّا اس جگہ پر جازمہ استعمال ہوا ہے اور اس کا فعل محذوف ہو گیا ہے اور یہ عربی زبان کے رو سے جائز ہے۔لَمَّا اور لَمَّ کے معنوں میں پانچ فرق نحوی بیان کرتے ہیں اور ان میں سے ایک فرق یہ بھی ہے کہ لَمَّ کے بعد کا فعل حذف نہیں کیا جاسکتا۔لیکن لَمَّا کے لفظ کا فعل جب اس پر کوئی دلیل موجود ہو حذف کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ اس کے ثبوت میں نحوی ایک شعر بھی نقل کرتے ہیں جو یہ ہے ؎