تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 365

یہ ما موصولہ ہے یا مصدریہ مِمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَآءِمیں ماموصولہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے اور مصدر یہ بھی۔یعنی من اَلَّذِیْنَ یَعْبُدُھُمْ ھٰٓؤلَاءِ اَوْمِنْ عِبَادَتِھِمْ یعنی ان کے معبودوں کے متعلق یا ان کی عبادت کے متعلق شک میں نہ پڑ۔یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ جن کی یہ عبادت کرتے ہیں ان کے متعلق تجھے شبہ پیدا نہ ہو کہ ممکن ہے انہوں نے ہی کوئی ایسی بات کہی ہو جس سے شرک پیدا ہوا ہو۔انہوں نے کچھ نہیں کہا۔یہ خیالات ان کے اپنے باپ دادوں کی ایجاد ہیں اور یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کی عبادت کے متعلق شبہ نہ کر۔پھر ان معنوں کے بھی دو مطلب ہوسکتے ہیں یہ بھی کہ ان کی عبادت کے متعلق یہ شبہ نہ کر کہ کون ایسا فعل کرسکتا ہے اور یہ بھی کہ یہ مشرکانہ عبادت کرتے ہیں تو انہیں سزا کیوں نہیں ملتی؟ غَيْرَ مَنْقُوْصٍ حال مؤکدہ ہے۔صرف زور دینے کے لئے آیا ہے ورنہ وَفّٰی کے معنے خود پورا پورا دینے کے ہوتے ہیں۔پس غیرمنقوص کہہ کر مضمون کی مزید تاکید کردی گئی ہے اور بتایا ہے کہ نہ پہلے لوگ سزا سے بچے ہیں نہ یہ بچیں گے۔وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ اور ہم نے (اختلافات کےمٹانے کے لئے) یقیناً موسیٰ کو( بھی) کتاب (تورات) دی تھی پھر (کچھ مدت کے بعد) سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ اس کے متعلق (بھی )اختلاف کیا گیا۔اور اگر وہ( رحمت کے وعدہ والی) بات جو تیرے رب کی طرف سے پہلے مِّنْهُ مُرِيْبٍ۰۰۱۱۱ (سے) آچکی (ہوئی) ہے (مانع) نہ ہوتی تو ان کے درمیان (کبھی کا) فیصلہ کیا جا چکا ہوتا اور اب تو وہ اس( کتاب یعنی قرآن) کے متعلق (بھی) ایک بے چین کر دینے والے شک میں (پڑے ہوئے) ہیں۔تفسیر۔کلام الٰہی کا نزول ہمیشہ ہوتاہے اور ہوتا رہا ہے اب خاتمہ سورۃ پر اصل مضمون کی طرف پھر اشارہ فرماتا ہے کہ کلام الٰہی ضرور نازل ہوتا ہے اور ہوتا رہا ہے مگر انسان اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔موسیٰ ؑ پر کتاب اتری اور اس کتاب میں ایک اور کتاب کا ذکر تھا مگر لوگوں نے قسم قسم کے شبہات اس میں پیدا کرلئے اور