تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 359
ہوتا ہے۔نہ کہ پچھلا۔جیسا کہ فرمایا اَفَاۡىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ۔(الانبیاء :۳۵) اگر پہلا زمانہ بھی خلود کے منافی ہوتا تو وہ تو آہی چکا تھا۔اور وہ پیدا ہوچکے تھے۔پس خلود کی نفی تو پیدائش ہی سے ہوجاتی تھی۔اہل جنت کے متعلق یہی استثناء جنتیوں کے متعلق جو استثناء ہے اس کے متعلق بھی بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ اس سے اعراف والے لوگ یا دوزخ سے نکل کر جنت میں آنے والے لوگ اور ان کا زمانہ مراد ہے۔اس کا بھی یہی جواب ہے کہ خلود بعد کے زمانہ کے امتداد پر دلالت کرتا ہے۔نہ کہ پہلے زمانہ کے امتداد پر۔عذاب جہنم غیر منقطع نہیں اصل میں ساری مشکل ان لوگوں کو اس وجہ سے پیش آئی کہ اس آیت کے الفاظ سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ دوزخ کا عذاب آخر ختم ہونے والا ہے لیکن ان لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ دوزخ کا عذاب بھی جنت کی نعماء کی طرح غیرمجذوذ اور نہ ختم ہونے والا ہے۔اس لئے وہ ان توجیہات پر مجبور ہوئے۔حدیث سے اس مدعا کا اثبات حالانکہ حق یہ ہے کہ نہ صرف قرآن مجید ہی دوزخ کو منقطع قرار دیتا ہے بلکہ احادیث بھی اسی کی تائید کرتی ہیں۔چنانچہ عبداللہ ابن عمرو ابن العاص کی روایت سے احمد (ابن حنبل) نے نقل کیا ہے کہ لَیَأْتِیَنَّ عَلٰی جَھَنَّمَ یَوْمٌ تَصْفِقُ فِیْہِ اَبْوَابُھَا لَیْسَ فِیْہَا اَحَدٌ۔وَذٰلِکَ بَعْدَ مَایَلْبِثُوْنَ فِیْہَا اَحْقَابًا (فتح البیان سورۂ ہود آیت زیربحث) ضرور جہنم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس کے دروازے بجیں گے اور اس میں کوئی شخص نہ ہوگا اور یہ اس وقت ہوگا جبکہ لوگ کئی صدیاں اس میں رہ چکے ہوں گے۔گویا خلود سے مراد صدیوں رہنا ہے۔اس حدیث کے متعلق بعض محدثین کہتے ہیں کہ اس کے راویوں میں ایک کذاب ہے۔لیکن یہ اعتراض ان کا درست نہیں کیونکہ یہ روایت قرآن کریم کے مطابق ہے۔سورہ نباء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہےلٰبِثِيْنَ فِيْهَاۤ اَحْقَابًا(النباء:۲۴)۔کہ کفار دوزخ میں صدیوں رہیں گے۔سلف صالحین کے اقوال اس بارہ میں فتح البیان میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہی قول ابن مسعودؓ اور ابوہریرہؓ کا بھی ہے اور کئی راویوں سے مروی ہے۔اور امام ابن تیمیہ ؓ فرماتے ہیں کہ یہی عقیدہ حضرت عمرؓ حضرت ابن عباسؓ اور حضرت انسؓ اور بہت سے گزشتہ مفسرین کا بھی تھا۔حافظ ابن القیم جو بڑے صوفی اور امام ابن تیمیہ کے شاگرد ہیں انہوں نے اپنی کتاب ہَادِیُ الْاَرْواحِ اِلیٰ بِلَادِ الْاَفْرَاحِ میں اس مسئلہ پر مفصل بحث کی ہے(فتح البیان زیر آیت ھذا)۔بعض ائمہ نے خَالِدِیْنَ کے لفظ کا یہ جواب دیا ہے کہ بے شک وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے لیکن جب اللہ تعالیٰ دوزخ کو ہی مٹا دے گا اور اس طرح سے اپنا رحم جاری کرے گا تو پھر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔یعنی جب دوزخ ہی نہ رہے گا تو دوزخی اس میں کس طرح رہ سکتے ہیں۔علامہ ابن تیمیہ اور ابن القیمؓ