تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 360
نے بھی دوزخ کے فنا ہوجانے کے مسئلہ کی تائید کی ہے۔(فتح البیان زیر آیت ھذا) علّامہ بغوی نے اوپر والی روایت حضرت ابوہریرہؓ سے نقل کی ہے۔جس سے اس روایت کی مزید تصدیق ہوجاتی ہے۔ابن جریر نے شعبی کا قول نقل کیا ہے کہ جَھَنَّمُ اَسْرَعُ الدَّارَیْنِ عُمْرًانَا وَاَسَرَ عُہُمَا خَرَابًا (تفسیر ابن جریر زیرآیت ھذا)۔یعنی جہنم دونوں گھروں سے پہلے آباد ہونے والی اور پہلے خراب ہونے والی ہے۔وَقَالَ اِبْنُ مَسْعُودٍؓ لَیَاتِیَنَّ عَلَیْہَا زَمَانٌ تَخْفُقُ اَبْوَابُہَا۔یہی قول جابرؓ ابوسعید خدری اور عبداللہ بن عمرؓ کی طرف سے بھی مروی ہے۔(فتح البیانزیر آیت ھٰذا) حدیث شفاعت حضرت ابوسعیدخدریؓ کی بھی ایک روایت ہے جو بخاری اور مسلم دونوں میں پائی جاتی ہے۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جہنم ہمیشہ کے لئے نہیں ہے۔حدیث لمبی ہے اس کا وہ ٹکڑا جس سے استدلال ہوسکتا ہے یہ ہے کہ قیامت کو اللہ تعالیٰ مختلف لوگوں کو شفاعت کی اجازت دے گا۔آخر مومنوں کو بھی شفاعت کی اجازت ملے گی۔پہلے وہ اپنے جان پہچان والے لوگوں کو بچائیں گے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی نیکی ہو اسے نکال لاؤ۔پھر نصف دینار کے برابر نیکی والوں کو پھر جس کے دل میں ایک ذرہ بھی نیکی ہوگی اس کو بھی نکلوالے گا۔اس کے بعد مومن کہیں گے کہ رَبَّنَالَمْ نَذَرْ فِیْھَا خَیْرًا۔۔۔فَیَقُوْلُ اللہُ شَفَعَتِ الْمَلَٓائِکَۃُ وَشَفَعَ النَّبِیُّوْنَ وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَلَمْ یَبْقَ اِلَّااَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔فَیَقْبِضُ قَبْضَۃً مِّنَ النَّارِ فَیُخْرِجُ مِنْہَا قَوْمًا لَمْ یَعْمَلُوْا خَیْرًا قَطُّ( مسلم کتاب الایمان باب معرفۃ طریق الرؤیۃ)۔یعنی اے ہمارے رب! ہم نے دوزخ میں نیکی کا ایک ذرہ بھی باقی نہیں چھوڑا۔تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ملائکہ نے بھی شفاعت کرلی اور نبیوں نے بھی کرلی اور مومنوں نے بھی کرلی۔اور صرف اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ باقی رہ گیا ہے۔اس پر خدا تعالیٰ دوزخ سے ایک مٹھی بھرے گا اور دوزخ سے ایسے لوگوں کو نکالے گا جنہوں نے کبھی کوئی نیک کام نہ کیا ہوگا۔اس روایت سے ظاہر ہے کہ دوزخ سے وہ لوگ بھی نکال لئے جائیں گے کہ جنہوں نے کبھی نیکی نہیں کی ہوگی اور اس درجہ سے ادنیٰ درجہ کوئی ہے ہی نہیں۔کہ جس کی نسبت ہم خیال کریں کہ وہ دوزخ میں رہ گیا ہوگا۔نیزاس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مٹھی بھر کر دوزخ سے نکال لے گا۔اور خدا تعالیٰ کی مٹھی سے مراد جسمانی مٹھی تو ہے نہیں اس سے مراد احاطہ ہی ہوتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کے احاطہ سے کون شئے باہر رہ سکتی ہے۔تیسرا استدلال اس روایت سے یہ بھی ہوتا ہے کہ جن کو سزا ملنی ہوگی ان کو ان کی بدیوں کی سزا پہلے مل جائے گی اور خیر کو باقی رکھ لیا جائے گا۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ (الزلزال:۸) جس نے