تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 358
گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مَا مَنْ کے معنی میں بھی آجاتا ہے مگر وہیں آتا ہے جب کہ اس مَنْ میں بعض ما (غیر ذوی العقول چیزیں) بھی شامل ہوں۔لیکن اس موقع پر ایسے وجود شامل نہیں ہیں۔اس لئے یہ تاویل درست نہیں معلوم ہوتی۔بعض اور بواعث کی وجہ سے بھی اس کا استعمال مَنْ کی جگہ جائز ہے۔مگر وہ بواعث بھی یہاں موجود نہیں ہیں۔ان معنوں کی تائید میں جو بعض مثالیں ما کی ایسی پیش کی گئی ہیں جن سے صرف انسان ہی مراد ہیں۔مثلاً مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ (النساء:۴) ان کو محققین نے تسلیم نہیں کیا۔بلکہ ان کے نزدیک ما اس قسم کی آیات میں اور معنوں میں آیا ہے۔اور یہی درست ہے۔موحد گنہگار کے لئے خلود نار کے الفاظ آئے ہیں نیز یہ امر بھی قابل غور ہے کہ قرآن کریم نے موحد گناہ گار کے لئے بھی وہی الفاظ استعمال کئے ہیں جو ایک کافر کے لئے۔پس فرق کرنے کے لئے کوئی دلیل چاہیےجو موجود نہیں ہے۔سورۂ نساء میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی نسبت فرماتا ہے کہ وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ يَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ۔(آیت:۱۵) یعنی وہ مسلمان جو اس آیت سے پہلے گذرے ہوئے احکام کو تسلیم نہیں کریں گے۔دوزخ میں جائیں گے اور اس میں رہتے ہی چلے جائیں گے اسی طرح اسی سورۃ کے رکوع ۱۳ میں فرماتا ہے وَ مَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا(النساء:۹۴)۔اور جو کوئی مومن کو جان بوجھ کر قتل کردے۔اس کی سزا جہنم ہوگی۔وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا۔ا ور اسے اپنے قرب سے محروم کر دے گا۔اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کرے گا۔سورۂ جن رکوع ۲ میں ہے وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا (الجن:۲۴)۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے پہلے کفار کا ذکر ہے۔لیکن اس آیت میں جو قاعدہ بتایا گیا ہے وہ صرف کفار پر چسپاں نہیں ہوتا۔بلکہ ہر اک نافرمانی کرنے والے پر خواہ موحد ہو یا غیرموحد پس اس کے حکم کی عمومیت کو ہم کسی صورت میں مقید نہیں کرسکتے۔جہنم میں داخل ہونے سے قبل کا زمانہ مستثنیٰ نہیں ہو سکتا (۲)بعض نے کہا ہے کہ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ سے مراد دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے کا زمانہ ہے(تفسیر کبیر لامام رازی زیر آیت ھذا)۔یعنی اِلَّاالْوَقْتُ الَّذِیْ لَایُدْخِلُہُمْ اللہُ فِی النَّارِ۔اَیْ قَبْلَ مَایُدْخِلُھُمْ فِی النَّارِ۔لیکن یہ معنی بھی نہیں ہوسکتے کیونکہ اس سے پہلے خَالِدِیْنَ فِیْھَا آچکا ہے اور اِلَّا خُلُوْد کے زمانہ سے ہی اپنے بعد والے مضمون کا استثناء کرتا ہے۔اور یہ استثناء اسی صورت میں درست ہوسکتا ہے جبکہ مستثنیٰ وجودوں کا پہلے دوزخ میں داخلہ مان لیا جائے نیز خلود سے آئندہ کا زمانہ مراد