تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 357

عربی زبان میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔اَلسَّعْدُ الْیُمْنُ۔سعد کے معنی برکت کے ہیں۔اَسْعَدَہٗ عَلَیْہِ اَعَانَہٗ اِسْعَدَ کے معنی ہیں دوسرے شخص کے خلاف اس کی مدد کی۔(اقرب) مَجْذُ وْزٌ۔جَذَّ میں سے اسم مفعول ہے۔جَذَّ الشَّیْ ءَکَسَرَہٗ وَقَطَعَہٗ مُسْتَأْصِلًا۔اسے توڑ دیا۔ا ور جڑ سے کاٹ دیا۔جَذَّ۔اَسْرَعَ جلدی سے دوڑا۔النَّخْلَ صَرَمَہٗ کھجور کو کاٹ دیا۔(اقرب) پس غَیْرَمَجْذُوْذٍ کے معنی ہوئے جو کاٹی نہیں جائے گی۔بند نہ ہوگی۔تفسیر۔نجات کے متعلق اختلاف مذاہب اس آیت میں ایک ایسے مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے جس میں اسلام کو دوسرے تمام مذاہب سے سخت اختلاف ہے اور وہ مسئلہ نجات کا ہے۔ہندوؤں کا عقیدہ ہندوؤں کا یہ خیال ہے کہ دوزخ اور جنت (جزا سزا) دونوں ہی محدود ہیں۔انسان اپنے اعمال کی جزا یا سزا بھگت کر پھر اسی دنیا میں آجاتا ہے(ستیارتھ پرکاش صفحہ ۵۶۳)۔اگرچہ ان کے بعض فرقوں کا باہم اختلاف ہے۔مگر تمام میں یہ بات بطور بنیاد کے موجود ہے کہ جزا اور سزا ہر دو عارضی ہیں۔یہود کا عقیدہ آرین قوم کے علاوہ جن میں سے ہندو ہیں۔دوسرا بڑا سلسلۂ اقوام سامی ہے۔اس سلسلہ میں یہودی نسلاً اور عیسائی مذہباً شامل ہیں۔یہود کے نزدیک جنت غیر یہودی کے لئے بالکل نہیں۔اور دوزخ یہودی کے لئے قریباً حرام ہے۔زیادہ سے زیادہ ایک یہودی گیارہ مہینے دوزخ میں رہ سکتا ہے(جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ Gehennda)۔اس کے سوا باقی لوگوں کے لئے جہنم ابدی اور غیرمنقطع ہے۔عیسائیوں کا عقیدہ عیسائیوں کے نزدیک جہنم بھی غیرمنقطع ہے اور جنت بھی غیرمنقطع(مکاشفہ ۱۱۔۹؍۱ کرنتھیوں کے نام دوسرا خط ۱؍۵)۔عیسائیوں کے بعض فرقوں کے نزدیک آخرکار جنت مٹ جائے گی۔اسلامی تعلیم اسلام ان تمام عقائد سے اختلاف رکھتا ہے۔اسلام کی وہ ثابت شدہ تعلیم جسے پہلے بھی اکثر ائمہ مانتے چلے آئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خصوصیت سے اور نئے رنگ میں اس پر زور دیا ہے۔وہ یہی ہے کہ جنت ہمیشہ کے لئے اور غیرمحدود زمانہ تک کے لئے ہے لیکن دوزخ غیرمنقطع نہیں۔ایک زمانہ آئے گا کہ دوزخ ختم ہو جائے گا۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۲۸۰۔۲۸۱)۔اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَکے معنی مفسرین نے اس اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ کی جو دوزخ کے متعلق آتا ہے تفسیر میں بہت اختلاف کیا ہے۔اور مختلف توجیہات بیان کی ہیں(الجامع لاحکام القرآن زیر آیت ھذا)۔(۱) بعض نے مابمعنی منْ مانا اور اِلَّا مَاشَآء کواِلَّا مَنْ شَآءَ رَبُّكَ قرار دیا ہے۔یعنی جسے خدا چاہے گا نکال لے گا۔یعنی ان کے نزدیک دوزخ تو غیرمنقطع ہی ہے مگر موحد گنہگار ایک زمانہ کے بعد اس میں سے نکال لئے جائیں