تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 356

پیش کئے جاتے ہیں۔(۲) وہ سچائی کو سمجھ جاتا ہے۔مگر خوف کی وجہ سے نہیں مان سکتا اور ان دونوں حالتوں میں کافر انسان گدھے سے مشابہت رکھتا ہے۔لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّ شَهِيْقٌ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ آواز دوزخ میں جانے والوں کی ہوگی۔پس جن دوسری آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوزخ کی آگ سے آواز آئے گی ان سے مراد بھی یہی ہے کہ وہ دوزخیوں کے رونے اور چلانے کی آواز ہی ہوگی۔خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ درانحالیکہ وہ اس میں رہیں گے جب تک کہ آسمان اور زمین قائم ہیں۔سوائے اس (عرصہ) کے جو تیرا رب چاہے رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ۰۰۱۰۸وَ اَمَّا الَّذِيْنَ تیرا رب جو چاہتاہے یقیناً اسے کر کے رہتا ہے۔اور جو خوش نصیب (ثابت) ہوں گے وہ جنت میں ہوں گے سُعِدُوْا فَفِي الْجَنَّةِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ درآنحالیکہ وہ اس میں رہیں گے جب تک کہ آسمان اور زمین قائم ہیں سوائے اس (وقت) کے جو تیرا رب چاہے۔الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ۰۰۱۰۹ ( یہ ایسی) عطا ہے جو (کبھی) کاٹی نہیں جائے گی۔حلّ لُغَات۔سُعِدُوْا۔سُعِدُوْا عَلَی الْمَجْھُوْلِ وَسَعِدَ یَسْعَدُ سَعَادَۃً۔ضِدّ شَقِیَ۔سُعِدَ اور سَعِدَ کے معنی یہ ہیں کہ فلاں شخص میں شقاوت کے خلاف حالت پائی گئی۔فَھُوَ مَسْعُوْدٌ عَلَی الْاَوَّلِ وَسَعِیْدٌ عَلَی الثَّانِیَ وَاللُّفْظُ یَأْتِی مَرَّۃً بِصِیْغَۃِ الْفَاعِلِ وَمَرَّۃً بِلَفْظِ الْمَفْعُوْلِ وَالْمَعْنٰی وَاحِدٌ۔پس پہلے صیغے یعنی مجہول کے لحاظ سے صاحب سعادت کو مسعود کہتے ہیں۔اور دوسرے صیغے یعنی معروف کے لحاظ سے اسے سعید کہتے ہیں۔اور اس طرح پر بسا اوقات ایک لفظ کے اسم فاعل اور اسم مفعول ہر دو کے صیغے ہم معنی آتے ہیں اور وہ لفظ دونوں صیغوں میں ایک ہی معنی دیتا ہے۔نَحْوَعَبْدٌ مُکَاتِبٌ وَمُکَاتَبٌ وَبَیْتٌ عَامِرٌ وَمَعْمُوْرٌ۔جیسے مکاتِبْ (بصیغہ اسم فاعل) اور مُکَاتَبْ (بصیغہ اسم مفعول) اور اسی طرح عامر اور معمور ہم معنی ہیں۔وَنَظَائِرُہٗ کَثِیْرَۃٌ۔اور اس کی نظائر