تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 354
وَ مَا نُؤَخِّرُهٗٓاِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ۰۰۱۰۵ اور ہم اسے صرف ایک گنی ہوئی میعاد تک پیچھے ڈال رہے ہیں۔حلّ لُغَات۔لَام جَارَّہ لِلَامِ الـجَارَّۃِ اِثْنَانِ وَعِشْرُوْنَ مَعْنًی۔لَامِ جَارَّہ کے بائیس معنی ہیں۔الثَّامِنُ مُوَافَقَۃُ اِلٰی آٹھویں معنے اس کے الی والے ہیں یعنی ’’تک‘‘ (اقرب) تفسیر۔کون سی اجل ٹل سکتی ہے اور کون سی نہیں ٹل سکتی اجل دو قسم کی ہوا کرتی ہے۔(۱) جو ٹل سکتی ہے (۲) جو ٹل نہیں سکتی۔جو اجل ٹل سکتی ہے اس کے لئے ایک دائرہ مقرر ہوتا ہے۔وہ اس دائرہ سے تو آگے پیچھے نہیں ہوسکتی مگر اس کے اندر حالات کے ماتحت گھٹ بڑھ سکتی ہے۔جیسے انسانی عمر کا دائرہ ہے۔ایک مقررہ میعاد کے اندر تو کمی بیشی ہوسکتی ہے مگر اس میعاد سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی وہ اجل جو کسی صورت میں نہیں ٹل سکتی وہ دنیا کی تباہی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔وہ مقرر ہے معدود ہے اور اٹل ہے۔يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّ جس وقت وہ آئے گی کوئی شخص اس (خدائے برتر) کے اذن کے سوا کلام نہیں کر سکے گا۔پھر ان میں سے( بعض) سَعِيْدٌ۰۰۱۰۶ بد بخت (ثابت) ہوں گے اور( بعض) خوش نصیب۔تفسیر۔اِلَّا بِاِذْنِهٖکے معنی اِلَّا بِاِذْنِهٖ یعنی وہ جزا کا وقت ہوگا اور اس وقت عدالت قائم کی جائے گی اور بجز اذن الٰہی کے کوئی کلام نہیں کرے گا۔یہ مطلب نہیں کہ جس طرح اس دنیا کی عدالتوں میں افسر مجاز سے اجازت حاصل کئے بغیر بولنے کی اجازت نہیں ہوتی اگلے جہان میں بھی ایسا ہی ہوگا۔کیونکہ اس دنیا میں تو اس لئے اجازت نہیں ہوتی کہ ایک ہی وقت میں کئی آدمی بول کر شور نہ ڈال دیں۔مگر خدا تعالیٰ کے سامنے یہ دقت نہیں ہے۔پس مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص بغیر ارشاد الٰہی کے بولے گا ہی نہیں۔کیونکہ ہر اک نفس جانتا ہوگا کہ عالم الغیب خدا کے سامنے کچھ عذر پیش کرنا فضول ہے۔مگر اللہ تعالیٰ اپنے کامل رحم سے کام لے کر خود لوگوں کی وکالت کرے گا۔اور انہیں ان امور کو سامنے لانے کا ارشاد فرمائے گا جو ان کی ذات کے لئے یا ان کے ساتھیوں کی ذات کے لئے جرم کی