تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 353

ہوسکتا ہے کہ جب نشان کو دیکھ کر وہی شخص آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے جو پہلے ہی اس سے ڈرنے والا ہوتا ہے۔اور جو پہلے سے ڈرنے والا نہیں ہوتا وہ اس نشان کو دیکھ کر بھی نہیں ڈرتا تو اس صورت میں اس عذاب کا کیا فائدہ ہوا؟ اس سوال کے جواب میں یاد رکھنا چاہیےکہ یہاں آیت سے مراد قیامت کا ثبوت نہیں ہے۔بلکہ اس کا نصیحت کا موجب بننا مراد ہے۔اور اس میں کیا شک ہے کہ قیامت سے نصیحت وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں کہ جو اخروی عذاب پر ایمان رکھتے ہوں۔پس چونکہ اس جگہ سے مضمون مومنوں کی طرف پھرنے والا تھا۔اس لئے فرمایا کہ عذابوں کو دیکھ کر ان کے دل میں آخرت کے عذاب کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔اور وہ خشیت کی وجہ سے اگلے جہان کے لئے اور زیادہ محنت اور کوشش شروع کردیتے ہیں۔یعنی وہ دنیوی سزا کو دیکھ کر اس پر اخروی عذاب کو قیاس کرلیتے ہیں۔مَجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ کے معنی مَجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ۔لوگ اس دن کی خاطر جمع کئے جائیں گے۔مطلب یہ کہ وہ دن اپنی ذات میں انسانی تکمیل کے لئے ضروری ہے اس وجہ سے وہ کسی اور مقصد کا ذریعہ نہیں بلکہ خود مقصود ہے۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک مقررہ دن میں کل مخلوق کو جمع کرنا بلا سبب نہیں اور نہ اتفاقاً ہے۔بلکہ خاص مقصد کے ماتحت ہے۔اور بالارادہ ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ اس دن ہر اک چیز نمایاں ہوجائے گی۔اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کا کوئی فعل بھی اس کا خالص ذاتی فعل نہیں ہوتا بلکہ تمام انسانی افعال پہلے انسانوں یا پہلے حالات یا اپنے ہم صحبتوں یا ان کے حالات اور اپنے بعد آنے والوں اور ان کے حالات سے متاثر ہوتے ہیں۔اور ہر فعل کے اچھا یا برا قرار دینے میں یا زیادہ یا کم اچھا یا برا قرار دیتے وقت ان حالات اور تاثیروں کا لحاظ ضروری ہوتا ہے۔مثلاً ایک انسان جرم کا عادی ہو۔لیکن اس کے جرم میں اس کے دماغ کی بناوٹ کا دخل ہو جو بناوٹ اسے کسی پچھلے بزرگ سے جو مجنون یا نیم مجنون ہو ورثہ میں ملی ہو اس صورت میں اس مجرم کے افعال کا اندازہ خود اس کے اپنے افعال کو دیکھ کر نہیں لگایا جاسکتا۔جب تک اس کے مورث اعلیٰ کی دماغی حالت ہمارے سامنے نہ ہو۔ہم اس کے افعال کی قیمت لگانے میں ضرور غلطی کریں گے۔پس انسانی اعمال کی حقیقت کے پورے انکشاف کے لئے اور دوسرے لوگوں کو یہ تسلی دلانے کے لئے کہ مختلف انسانوں کی سزا اور جزا میں جو بظاہر غیر واجب تفاوت نظر آتا ہے وہ تفاوت ظلماً نہیں بلکہ ان کے صاحب اختیار ہونے یا نہ ہونے کے سبب سے ہے اس لئے ضروری ہے کہ ایک دن ایسا آئے کہ جس میں سب کے سب بنی نوع انسان اپنے تمام حالات سمیت جمع ہوں تاکہ ہر اک شخص کے تمام افعال کے علل و اسباب نظروں کے سامنے ہوں اور سزا اور جزا کے وقت اس کو بھی اور دوسروں کو بھی معلوم ہوجائے کہ سزا یا جزا دیتے وقت پورے انصاف سے کام لیا گیا ہے۔