تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 355
تخفیف یا نیکی کی عظمت ظاہر کرنے کا موجب ہوں۔فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّ سَعِيْدٌ۔شقی وہ ہے جس کے اندر نیکی کا مادہ نہ ہو اور اس کا قلب نیکی کی تحریک سے متاثر نہ ہو۔اور سعید وہ ہے جس میں نیکی کا مادہ ہو اور نیکی کی تحریک سے متاثر ہونے والا ہو۔اس دن شقی کی اہانت اور سعید کا اعزاز ظاہر کیا جائے گا۔فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ پس جو بد بخت (ثابت )ہوں گے وہ آگ میں (داخل) ہوں گے اس میں (کسی وقت )ان کے لمبے سانس( نکل وَّشَهِيْقٌۙ۰۰۱۰۷ رہے )ہوں گے اور( کسی وقت) ہچکی کی حالت کے سانس۔حلّ لُغَات۔زَفِیْرٌ زَفِیْرٌمصدر ہے زَفَرَ۔یَزْفِرُ۔زَفْرًا۔وَزَفِیْرًا۔اَخْرَجَ نَفْسَہٗ بَعْدَ مَدِّہٖ اِیَّاہُ۔لمبا سانس کھینچ کر ہوا باہر نکالی۔اَلنَّارُ سُمِعَ صَوْتٌ لِتَوَقُّدِھَا آگ زور سے بھڑکی۔جس کے شعلوں سے آواز پیدا ہوئی۔وَالزَّفِیْرُ۔الدَّاھِیَّۃُ۔نیز زَفِیْرٌ کے معنی بڑی مصیبت کے ہیں۔وَاَوَّلُ صَوْتِ الْحِمَارِ۔اور گدھے کی آواز کے پہلے حصے کو یعنی اس کے بولنے کے وقت جو اس کی ایک لمبی آواز پیدا ہوتی ہے اسے بھی زَفِیْرٌ کہتے ہیں۔(اقرب) شَہِیْقٌ شَھَقَ الرَّجُلُ یَشْہِقُ شَہِیْقًا تُرَدَّدُ الْبُکَاءُ فِی صَدْرِہٖ۔ہچکیاں لے لے کر رویا شَہِیقُ الْحِمَارِ۔اٰخِرُ صَوْتِہٖ۔گدھے کی آواز کا پچھلا حصہ یعنی جو چھوٹی چھوٹی آوازوں کا مجموعہ آخر میں سنائی دیتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔کفار کی تشبیہ گدھوں سے قرآن مجید نے کفار کے لئے زَفِیْرٌ اور شَہِیْقٌ کے الفاظ استعمال کرکے انہیں گدھے سے مشابہت دی ہے۔جس کی ایک وجہ تو قرآن کریم میں دوسری جگہ یہ بتائی ہے کہ جس طرح گدھے پر کتابیں لاد و تو وہ عالم نہیں ہو جاتا بلکہ ویسا کا ویسا ہی رہتا ہے اسی طرح صداقت سے غافل لوگ ہوتے ہیں۔کہ ظاہری علم تو انہیں حاصل ہوتا ہے لیکن عرفان اور روحانیت سے وہ بالکل خالی ہوتے ہیں۔پھر گدھا بے وقوفی کے لحاظ سے بھی مشہور ہے۔اور قرآن مجید نے گدھے کی بزدلی کا بھی ذکر فرمایا ہے جیسے آتا ہےكَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ۔فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ۔(المدثر :۵۱،۵۲) ایسا ہی کافر بھی بزدل ہوتا ہے۔اگر ہم غور سے دیکھیں تو ایمان نہ لانے کی دو ہی بڑی وجہیں ہوتی ہیں۔(۱) انسان ان علوم سے فائدہ نہیں اٹھاتا جو اس کے سامنے