تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 351
مثلاً آگ پانی ہوا وغیرہ تو ان کو نفع دے جاتی ہیں مگر ان کے معبود ان کو کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کفار کی تلواروں نے تو بعض صحابہ کو شہید بھی کیا مگر مکہ کے بتوں نے تو کچھ نہ کیا۔فرمایا یہ عجیب بیوقوفی ہے کہ جو چیزیں کوئی بھی نفع نہیں دیتیں ان کو یہ لوگ خدا بناتے ہیں۔بتوں کی حقیقت الٰہی فیصلہ صادر ہونے پر ظاہر ہوگی لَمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَسے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اصل حقیقت اسی وقت ظاہر ہوسکتی ہے جب خدا تعالیٰ بتوں کا پول کھولنے کا فیصلہ کرے۔ورنہ اس سے پہلے پہلے تو کئی قسم کے فوائد لوگ معبودانِ باطلہ کی طرف منسوب کرتے رہتے ہیں۔مگر جب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آجاتا ہے تو پھر کسی کے بنائے کچھ نہیں بنتی اور شرک کی حقیقت کھل جاتی ہے۔بت کن معنوں میں کوئی ضرر نہیں پہنچاتے قرآن مجید ایک طرف تو یہ فرماتا ہے کہ بت ان کو نہ کوئی ضرر پہنچاتے ہیں نہ نفع۔مگر مَا زَادُوْهُمْ غَيْرَ تَتْبِيْبٍسے معلوم ہوتا ہے کہ بت ضرر پہنچا سکتے ہیں۔سو اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیےکہ ضرر دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک اختیاری ضرر ہوتا ہے جیسے کوئی انسان جان بوجھ کر کسی کو تکلیف پہنچائے اور ایک بلا اختیار جیسے کوئی مکان گر جائے اور اس کے نیچے کوئی دب جائے جس میں اس مکان کے ارادہ کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔بلکہ اس کے ایک طبعی فعل کا ایک طبعی نتیجہ نکل رہا ہوتا ہے۔جس سے لوگوں کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔ان دونوں قسم کے نقصانوں کو سمجھ لینے کے بعد اس بات کا سمجھ لینا کچھ مشکل نہیں رہتا کہ جس جگہ قرآن مجید میں یہ فرمایا ہے کہ غیراللہ معبود کوئی ضرر نہیں پہنچاسکتے اس جگہ ضرر سے مراد پہلی قسم کا ضرر ہے۔اور جس جگہ یہ فرمایا ہے کہ ان سے تعلق ہلاکت کا موجب ہوتا ہے وہاں دوسری قسم کا ضرر مراد ہے۔اور اس میں کیا شک ہے کہ بلاارادہ ضرر تو سب سے زیادہ معبودان باطل سے ہی پہنچتا ہے۔کیونکہ سب سے بڑا جرم شرک ہی ہے۔فتح مکہ کے وقت جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ فلاں فلاں اشرار کو پناہ نہیں دی جاوے گی تو وہ لوگ دوڑ کر خانہ کعبہ کے غلاف کو چمٹ گئے۔اور اس کے اندر چھپ گئے۔مگر وہ وہیں مارے گئے(السیرۃ الحلبیۃ الجزء الثالث زیر عنوان فتح مکۃ)۔اگر ان کو یہ خیال نہ ہوتا کہ بت ان کی کوئی مدد کریں گے تو ممکن تھا کہ بھاگ کر بچ جاتے۔پس غَیْرَتَتْبِیْبٍ میں اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ شرک کی وجہ سے مشرکوں کی تدابیر میں سستی آجاتی ہے۔