تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 350

ہیں اور بعض کے نشانات بھی مٹ چکے ہیں۔اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک تاریخی نتیجہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جن قوموں کا پہلے ذکر ہوچکا ہے ان میں سے بعض کے آثار اب تک باقی ہیں اور بعض کے آثار کا پتہ نہیں چلتا۔اس صورت میں اگر بعض بستیوں کے آثار نہ ملیں تو یوروپ والوں کو یہ اعتراض کرنے کا حق نہیں کہ قرآن مجید کی بات غلط ہے کیونکہ قرآن کریم تو خود کہتا ہے کہ بعض ان میں سے بے نشان ہوچکی ہیں۔ہاں اگر مل جاویں تو پھر بھی قرآن مجید پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا۔کیونکہ حَصِیْدٌ کے ایک معنے درانتی سے کٹے ہوئے کے بھی ہوتے ہیں۔اور درانتی سے کاٹنے کی صورت میں جڑیں باقی رہ جاتی ہیں۔پس اگر مٹے ہوئے نشان مل بھی جائیں تب بھی کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا۔وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اور ہم نے ان پر (کوئی) ظلم نہیں کیا (تھا) بلکہ انہوں نے (خود ہی) اپنی جانوں پر ظلم کیا۔پھر جب تیرے رب کا اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ لَّمَّا (عذاب کا) حکم آگیاتو ان کے معبودوں نے جنہیں وہ اللہ (تعالیٰ) کے سوا پکارا کرتے تھے انہیں کچھ بھی فائدہ نہ دیا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَيْرَ تَتْبِيْبٍ۰۰۱۰۲ اور سوائے تباہی میں ڈالنے کے انہوں نے( کسی بات میں) انہیں نہ بڑھایا۔حلّ لُغَات۔تَتْبِیْبٌ تَبَّبَہٗ اَھْلَکَہٗ۔اسے ہلاک کر دیا۔(اقرب) تفسیر۔سزا اعمال بد کا نتیجہ ہے قرآن مجید متواتر اس بات پر زور دیتا ہے کہ جن لوگوں کو بھی ہم نے سزا دی ہے اس سزا کا باعث خود ان کے اعمال تھے۔ہماری طرف سے ظلماً یہ بات صادر نہیں ہوئی۔اس طرح زور دینے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ آئندہ تقدیر کے مسئلہ کے ماتحت خدا تعالیٰ پر ظلم کا الزام لگایا جائے گا۔قریباً ہر مقام پر جہاں جہاں سزا کا ذکر آیا ہے یہ مضمون ساتھ ہی بیان کیا گیا ہے۔گویا خدا تعالیٰ اس قسم کی تقدیر سے انکار کرتا ہے کہ وہ بلاوجہ ایک قوم کو ترقی دیتا اور دوسری کو تباہ کر دیتا ہے۔قرآن کریم کے الفاظ یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ عذاب اور سزائیں سزایافتہ لوگوں کے افعال و اعمال کا مناسب حال اور طبعی نتیجہ تھیں۔مَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمْ کے معنی مَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُم سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ دوسری چیزیں