تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 352
وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اور تیرے رب کی گرفت جب وہ بستیوں کو اس حالت میں کہ وہ ظلم (پر ظلم )کر رہی ہوں پکڑتا ہے اسی طرح پر اَخْذَهٗۤ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ۰۰۱۰۳ (اتمام حجت کے بعد )ہوا کرتی ہے۔اس کی گرفت یقیناً دردناک (اور) سخت ہوتی ہے۔تفسیر۔اس آیت میں ان تمام واقعات کے بیان کرنے کی غرض بتائی ہے۔جو اس سے پہلے بیان ہوچکے ہیں۔اور بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب جب کسی قوم پر نازل ہوتا ہے تو اس کے نام و نشان تک کو مٹا دیتا ہے۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو ہوشیار ہوجانا چاہیےاور ایسے طریق اختیار نہیں کرنے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ان پر کھینچ لائیں۔ظلم کے معنی شرک اس آیت میں ظَالِمَۃٌ کے معنی مُشْرِکَۃٌ کے ہیں اور ان معنوں میں یہ لفظ قرآن کریم میں متعدد جگہ استعمال ہوا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ معنی ثابت ہیں (بخاری کتاب التفسیر سورۃ لقمان باب لا تشرکوا باللہ ان الشرک لظلم عظیم )اور مراد یہ ہے کہ جس وقت کسی قوم میں سے حقیقی توحید مٹ جاتی ہے اس وقت اس پر جو عذاب آتا ہے وہ بہت زیادہ تباہی کا موجب ہوتا ہے اور جو تباہی طبعی اسباب تنزل کے ماتحت آتی ہے وہ آہستہ آہستہ آتی ہے۔اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو اس کے لئے( خدا تعالیٰ کی)اس ( گرفت) میں یقیناً یقیناً ایک (عبرت انگیز ) يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ۰۰۱۰۴ نشان (پایا جاتا) ہے یہ ایک ایسا دن( آنے والا) ہے جس کے لئےلوگوں کو جمع کیا جائے گا۔اور یہ آمنے سامنے ہو نے کا دن ہو گا۔تفسیر۔قیدلِمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِاور اس کے معنی اس آیت کے متعلق یہ سوال