تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 333
قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ انہوں نے کہا اے شعیب کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ جس چیز کی ہمارے باپ دادا پرستش کرتے (آئے) ہیں اٰبَآؤُنَا اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ اسے ہم چھوڑ دیں یا اس بات کو( ترک کر دیں) کہ اپنے مالوں کے متعلق ہم جو چاہیں کریں الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ۰۰۸۸ توتو یقیناً بڑا (ہی) عقل مند( اور) سمجھدار (آدمی) ہے۔حلّ لُغَات۔الْحَلِیْمُ۔الْحَلِیْمُ حَلُمَ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں۔صَفَحَ درگزر کیا۔سَتَرَ پردہ پوشی کی (اقرب) نیز حِلْمٌ کے معنی ہیں اَلْأَنَاۃُ آرام سے کام کرنا۔جوش میں نہ آنا۔اَلْعَقْلُ عقلمندی۔(اقرب) پس حلیم کے معنی آرام سے بغیر جوش کے کام کرنے والے اور عقلمند کے بھی ہوئے۔(اقرب) اَلرَّشِیْدُ۔اَلرَّشِیْدُ۔ذُوالرُّشْدِ۔رشد والا اَلَّذِیْ حَسُنَ تَقْدِیْرُہٗ فِی مَاقَدَّرَ۔جو اندازہ درست لگاتا ہو۔فِی صِفَاتِ اللہِ آلھَادِیُ اِلٰی سَوَآءِ الصِّرَاطِ۔اللہ تعالیٰ کے لئے جب یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنی سیدھے راستہ کی طرف ہدایت دینے والے کے ہوتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔قومِ شعیب کا تمسخر میرے نزدیک یہ بھی انہوں نے تمسخر کے طور پر کہا ہے اور مطلب یہ ہے کہ سوائے نماز کے تم میں ہم اور تو کوئی خوبی نہیں دیکھتے۔نہ محنت کرنا جانتے ہو نہ تجارت کرنا نہ زراعت کرنا۔پس کیا تم چاہتے ہو کہ ہم بھی تمہاری طرح دنیا کی عزتوں کو کھودیں اور نکمے ہوکر بیٹھ جائیں۔’’کیا نماز تم کو حکم دیتی ہے‘‘ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ نماز پڑھ پڑھ کر تمہاری عقل ماری گئی ہے۔اور تم خیال کرنے لگے ہو کہ سب سے بڑا کام یہی ہے لیکن تم کو اس سے کیا کام کہ ہم کس کی عبادت کرتے ہیں اور اپنے مالوں کو کس طرح خرچ کرتے ہیں۔یہ عجیب لطیفہ ہے کہ حضرت شعیب ؑ تو انہیں یہ نصیحت کرتے ہیں کہ دوسروں کے مالوں کو جھوٹ اور فریب سے نہ لیا کرو اور وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ تمہیں کیا ہم جس طرح چاہیں اپنے مالوں کو استعمال کریں۔گویا حرام کھاتے کھاتے