تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 334

یہ عجیب لطیفہ ہے کہ حضرت شعیب ؑ تو انہیں یہ نصیحت کرتے ہیں کہ دوسروں کے مالوں کو جھوٹ اور فریب سے نہ لیا کرو اور وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ تمہیں کیا ہم جس طرح چاہیں اپنے مالوں کو استعمال کریں۔گویا حرام کھاتے کھاتے ان کی عقل پر اس قدر پردہ پڑ گیا تھا کہ وہ یہ بھی نہیں سمجھ سکتے تھے کہ وہ اپنے مالوں میں نہیں بلکہ دوسرے کے مالوں میں تصرف کررہے ہیں۔قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَ اس نے کہا اے میری قوم (بھلا )بتاؤ (تو سہی) اگر( ثابت ہوا) کہ میں( اپنے دعویٰ کی بنا )اپنے رب کی طرف رَزَقَنِيْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى سے (عطا شدہ) کسی روشن دلیل پر (رکھتا) ہوں اور اس نے اپنے حضور سے مجھے اچھا (اور پسندیدہ) رزق دیا ہے مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ (تو کل خدا کے حضور تم کیا جواب دو گے )اور میں نہیں چاہتا کہ جس بات سے تمہیں روکوں (اس سے تم تو رک جاؤاور وَ مَا تَوْفِيْقِيْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَيْهِ اُنِيْبُ۰۰۸۹ خود میں) تمہارے خلاف اسی (بات) کا قصد کروں۔میں تو سوائے اس( حد تک) اصلاح کےجس کی مجھے طاقت ہو کچھ نہیں چاہتا اور میرا توفیق پانا اللہ (تعالیٰ) ہی (کے فضل اور رحم) سے (وابستہ) ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میں بار بار جھکتا ہوں۔حلّ لُغَات۔خَالَفَہٗ خَالَفَہٗ اِلَی کَذَا کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ جو کام وہ کرتا ہے اس کے خلاف کام کیا۔تَقُوْلُ خَالَفَنِیْ اِلَی کَذَا۔اِذَا قَصَدَہٗ وَاَنْتَ مُوَلٍّ عَنْہُ یعنی اس نے فلاں کام جو تم نہیں کرتے کرکے تمہارے خلاف راہ اختیار کی۔(اقرب) تفسیر۔حضرت شعیب کا جواب جواب شرط محذوف ہے اور مراد یہ ہے کہ میری نماز مجھے نہیں کہتی بلکہ میرا خدا مجھے کہتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بادلائل کلام مجھ پر نازل ہو اور وہ اپنے فضل سے حلال رزق مجھے دے تو بتاؤ کہ کیا پھر بھی میرا حق نہیں کہ میں تم کو نصیحت کروں اور اس بات سے روکوں جسے میں بدلائل نقصان دہ ثابت کرچکا ہوں۔