تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 324
بددعا کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے اس امر کو جسے اس وقت تک چھپائے رکھا تھا۔ظاہر کر دیا اور بتا دیا کہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ہم وہی بتانے آئے تھے۔صرف تمہارے اہل عذاب سے بچائے جائیں گے۔اور باقی شہر تباہ کیا جائے گا۔اہل میں سے بھی بیوی نہیں بچ سکے گی۔اور عذاب صبح کے وقت تک آجائے گا۔فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَيْهَا پھر جب ہمارا (عذاب کا) حکم آیا تو ہم نے اس( بستی) کے اوپر والے (حصہ) کو نیچے والا (حصہ )بنا دیا۔اور اس پر حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ۰۰۸۳ پتھروں کی یعنی تہ بہ تہ (کی ہوئی) کنکروں والی (سخت شدہ) مٹی کی بارش برسائی۔حلّ لُغَات۔سِـجِّیْلٌ السَّجِّیْلُ حـَجَرٌ وَطِیْنٌ۔تہہ بتہہ مُخْتَلِطٌ۔ایسا مجموعہ جس میں کنکر اور مٹی ملی ہوئی ہو۔(مفردات) حِـجَارَۃٌ کالْمَدَرِ ڈھیلوں کی شکل کے پتھر۔(اقرب) نَضَدَ نَضَدَ الْمَتَاعَ یَنْضِدُ نَضْدًا۔جَعَلَ بَعْضَہٗ فَوْقَ بَعْضٍ۔ایک دوسرے پر تہہ بتہہ لگا کر رکھا۔(اقرب) پس مَنْضُوْدٌ کے معنی ہوئے تہہ بتہہ لگا کر رکھا ہوا۔تفسیر۔یہ عذاب غالباً شدید زلزلہ کی صورت میں آیا تھا معلوم ہوتا ہے شدید زلزلہ سے یہ قوم ہلاک ہوئی تھی۔شدید زلزلوں میں زمین الٹ بھی جاتی ہے۔اور اس کے ٹکڑے اڑ کر پھر وہیں آکر گرنے لگتے ہیں۔نشان لگے ہوئے پتھروں سے مراد یہ ہے کہ ازل سے ان پتھروں کے لئے یہی مقدر تھا کہ اس قوم کی تباہی کا موجب بنیں۔واقعہ لوط کے متعلق بعض امور ضروریہ بائبل کے بیان کے مطابق حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھائی حاران کے بیٹے تھے اور اُور سے جو عراق کے علاقہ کا ایک قصبہ تھا حضرت ابراہیم کے ساتھ ہی ہجرت کرکے کنعان یعنی فلسطین کے ملک کی طرف چلے آئے تھے۔یہاں پہنچ کر وہ حضرت ابراہیمؑ سے الگ ہوکر صدوم نامی بستی میں رہنے لگے(پیدائش باب ۱۳ و ۱۴)۔حضرت لوط ؑکے متعلق بائبل کےاور قرآن کریم کے بیانوں میں اختلاف قرآن کریم اور بائبل میں لوط علیہ السلام کے واقعہ میں کچھ اختلافات بھی ہیں۔بائبل حضرت لوط کو لڑاکا اور حاسد بتاتی ہے(پیدائش