تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 323
عظمت اور بڑائی والی بات۔مَایُقْوٰی بِہٖ مِنْ مِلْکٍ وَ جُنْدٍ وَغَیْرِہِ۔قوۃ کا ذریعہ اور سامان خواہ جائیداد ہو یا جتھاوغیرہ۔اَلْعِزُّ وَالمَنَعَۃُ۔غلبہ اور مددگاروں اور حفاظت کرنے والوں کا جتھا۔(اقرب) تفسیر۔حدیث میں ہے عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ رَحْمَۃُاللہِ اَوْ رَحِمَ اللہُ عَلٰی لُوْطٍ لَقَدْ کَانَ یأوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ (یَعْنِی اللہَ تَعَالیٰ عَزَّوَجَلَّ) ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی رحمتیں ہوں حضرت لوط علیہ السلام پر یا یہ فرمایا کہ اس پر اللہ رحم کرے وہ بار بار ایک رکن شدید کی پناہ لیتے تھے اور اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے۔(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھذا) حضرت لوط ؑ کا یہ مطلب ہے کہ اگر طاقت ہوتی تو میں تمہارا مقابلہ کرکے بدی سے روکتا۔مگر طاقت نہیں ہے۔بس اب یہی ذریعہ ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی پناہ ڈھونڈوں۔اور تمہارے لئے عذاب طلب کروں۔مگر میں ابھی دیر کرتا ہوں تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔لیکن جب اس دردمندانہ اپیل کی طرف بھی لوگوں نے توجہ نہ کی تو خدا تعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق اللہ تعالیٰ سے اس قوم کی تباہی کی دعا کی۔جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے ظاہر ہے۔قَالُوْا يٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَّصِلُوْۤا اِلَيْكَ فَاَسْرِ انہوں نے (یعنی مہمانوں نے )کہا اے لوط ہم یقیناًتیرے رب کے فرستادہ ہیں۔وہ تجھ تک ہرگز نہیں پہنچیں گے بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ وَ لَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا (ان کی تباہی کا وقت آچکا ہے) اس لئے تُو رات کے کسی حصہ میں اپنے گھر والوں کو لے کر تیزی سے (یہاں سے) امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ چلے جاؤ اور تم میں سے کوئی( فرد بھی) ادھر ادھر نہ دیکھے (اس طرح سے تم محفوظ رہو گے) سوائے تیری بیوی کے الصُّبْحُ١ؕ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ۰۰۸۲ ( کہ) جو( عذاب) ان پر آیا (ہوا ہے )وہ اس پر بھی یقیناً آنے والا ہے۔ان کا مقررہ وقت (آئندہ) صبح ہے (اور) کیا صبح قریب نہیں ہے۔تفسیر۔جب ان لوگوں نے حضرت لوط کی یہ بات سنی کہ وہ ان لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور