تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 280
طوفان کے ہیرو نوح علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے خاص برکت دی تھی۔اور ان کی نیکی کی وجہ سے ان کی نسل کو خاص غلبہ دنیا میں عطا کیا تھا۔باقی اور اقوام بھی اس وقت تھیں جو اس عذاب میں شامل نہ تھیں۔ایک مدت تک اپنے دن گزار کر وہ اپنے انجام کو پہنچ گئیں۔اور یہ بھی ثابت ہے کہ یہ طوفان اس قدر شدید تھا کہ کشتیوں میں پناہ لینی پڑی اور آسمان سے بھی بارش ہوئی اور زمین کے چشمے بھی پھوٹ پڑے اور بعض پہاڑیوں کی چوٹیوں تک پانی پہنچ گیا۔یہ طوفان عالمگیر نہیں تھا یہ واقعات ایسے ہیں کہ جن کا انکار کرنے کی کسی کو گنجائش نہیں ہوسکتی۔قرآن کریم سے ثابت ہے اور ہر ملک کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ملک پہاڑی تھا اور قرآن کریم سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی وادی تھی جس کے پاس بہت سے پہاڑ تھے۔پس یہ بالکل ممکن ہے کہ اس وادی کا منہ پہاڑوں کے بالمقابل سلسلوں کی وجہ سے تنگ ہو۔جیسا کہ اکثر پہاڑی وادیوں میں ہوتا ہے۔زلزلہ کے سبب سے پتھروں کے گرنے سے یا برف کی سلوں کے پھسل کر آپڑنے کے سبب سے اس وادی کا منہ بند ہو گیا ہو۔اور اوپر سے تیز بارش کے ہونے اور نیچے سے چشموں کے پھوٹنے کے سبب سے پانی اس قدر جمع ہو گیا ہو کہ پہاڑوں کی چوٹیاں بھی پانی کے نیچے آگئی ہوں۔جیسا کہ ۱۹۲۸ میں ہی تبت کی پہاڑیوں میں ایک گلیشیر کے گرنے کی وجہ سے حادثہ ہوچکا ہے۔چونکہ یہ واقعہ بنی نوع انسان کی تہذیب کے ابتدائی دور میں ہوا ہے اور حضرت نوح ؑ اس دور کے پہلے فرد ہیں جیسا کہ احادیث میں انہیں پہلا رسول کہا گیا ہے اور اسی طرح بائیبل سے بھی ثابت ہوتا ہے پس معلوم ہوا کہ دورتہذیب کے بانی حضرت نوح ؑ ہیں۔ہندو روایات بھی اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کیونکہ ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ منو پہلا انسان تھا لیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ اس کے ساتھ سات اور آدمی بھی طوفان سے بچے تھے۔پس ان دونوں باتوں کو ملاکر یہی ثابت ہوتا ہے کہ منو تہذیب کے دور کا پہلا انسان تھا۔ورنہ انسان ہونے کے لحاظ سے وہ پہلا نہ تھا۔ان تین اہم بیانات کے اتفاق کے بعد جو مختلف ممالک کے مذاہب کا ہے اس کے ماننے میں کوئی شبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ تہذیب اور تمدن کی بنیاد نوح ؑ سے پڑی ہے۔اور یہ ایک امر واقع ہے کہ جب کوئی قوم تہذیب اور تمدن میں ترقی کرنے لگتی ہے تو اس کی نسل بھی کثرت سے بڑھنے لگ جاتی ہے۔اور اس کے ساتھ بسنے والی دوسری اقوام خودبخود کم ہونے لگ جاتی ہیں۔چنانچہ جس جس ملک میں بھی کوئی نسبتاً زیادہ مہذب قوم جاکر بسی ہے اس نے یا تو دوسری اقوام کو جو اس سے تہذیب میں کم تھیں مٹا دیا ہے یا بہت کمزور کر دیا ہے۔پس معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح کی اولاد او ران کے ہمراہیوں کی اولاد جو تہذیب کے دور کی اول کڑی تھی جن جن ملکوں میں پھیلی ہے