تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 279
تیسری روایت بھگوتا پرانا میں ہے۔اس میں جانوروں کے جوڑے ساتھ لینے کا بھی ذکر ہے۔روایات کا اس قدر اتفاق حتیٰ کہ بعض جگہ ناموں کا ملنا جیسے کہ ہندوستان میں اس کا نام منو بتانا اور بائیبل میں نوح اور طالمود میں مناحیم جو منو سے بہت ملتا ہے کیونکہ آخری ی اور میم صرف ادب کے لئے عربی زبان میں لگائے جاتے ہیں۔پس صرف مناح رہ جاتا ہے جو منو سے ملتا ہے۔اسی طرح بابل کے نام اور امریکہ کی قدیم روایتوں کے ناموں کے معنوں کا ملنا ہر جگہ ایک کشتی کا ذکر ہونا اور طوفان سے صرف چند آدمیوں کے بچ کر نکلنے کا بیان کیا جانا بتاتا ہے کہ یہ واقعہ ایک زبردست تاریخی واقعہ ہے۔جس پر دنیا کی سب قومیں شاہد ہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کا سب دنیا پر اثر پڑا تھا۔تبھی تو سب دنیا کی تاریخوں میں اس کا ذکر پایا جاتا ہے۔طوفان کا یہ ذکر تمثیلی نہیں ہوسکتا چونکہ بظاہر سب دنیا پر ایسے طوفان کا آنا محال نظر آتا ہے اس لئے علوم جدیدہ کے ماہروں نے اس واقعہ کو ایک تشبیہی کہانی قرار دیا ہے۔اور یہ معنی کئے ہیں کہ پرانے زمانہ میں ستاروں کی گردش وغیرہ کا ذکر تمثیلی زبان میں بعض لوگوں نے کیا ہے اس سے دھوکہ کھاکر یہ قصہ مشہور ہو گیا ہے(انسائیکلوپیڈیا ببلیکا زیر لفظ Deluge)۔مگر یہ سوال پھر بھی باقی رہ جاتا ہے کہ اس تمثیلی قصہ کو اس قدر اہمیت کیوں حاصل ہو گئی ہے۔اور سب دنیا کی قوموں کے دلوں پر اس قدر گہرا اثر اس کا کیوں پڑا ہے۔اور کیوں دوسرے قصوں کو چھوڑ کر اسے سب دنیا نے یاد رکھا ہے۔اور پھر سوال یہ ہے کہ قصہ تو آخر کسی ایک جگہ کے لوگوں نے بنایا ہوگا۔وہ اس طرح سب دنیا میں کس طرح پھیل گیا۔اور ہر زبان کی مذہبی تاریخوں میں اس کا ذکر ہونے لگا۔کون سا عقل مند اس امر کو تسلیم کرسکتا ہے کہ ایک ملک میں بنایا جانے والا قصہ قدیم زمانہ میں جبکہ تعلقات بہت محدود تھے اس طرح مختلف ملکوں اور مختلف زبانوں میں پھیل گیا۔اور یکساں اہمیت پا گیا اور سب مذاہب کا جزو بن گیا۔قرآن کریم سے اس واقعہ کے متعلق کیا ثابت ہوتا ہے حقیقت یہ ہے کہ اس تواتر اور اس عظمت کو دیکھ کر جو اس قصہ کو حاصل ہے اس امر سے انکار نہیں ہوسکتا کہ یہ واقعہ ضرور ہوا ہے۔اور اس کا تعلق بھی سب دنیا سے ہے۔اور ہوا بھی غیر معمولی طور پر ہے اور جب ہم اس نتیجہ تک پہنچ جاتے ہیں تو یہ امر ہمارے لئے سمجھنا بالکل آسان ہوجاتا ہے کہ وہ واقعہ جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے ان سب نتائج کے مطابق پورا اترتا ہے اور اس سے کوئی بات قانون طبعیات کے خلاف بھی نہیں ماننی پڑتی۔کیونکہ قرآن کریم سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ پرانے زمانہ میں ایک زبردست طوفان آیا تھا۔جس سے اس ملک کے سب باشندے تباہ ہو گئے تھے۔اور یہ کہ اس