تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 281

اس نے وہاں کی پہلے سے آبادشدہ نسلوں کو یا تو بالکل مٹا دیا یا اپنے اندر جذب کرکے یا ان کی طاقت توڑ کر بالکل کمزور کر دیا۔اور اپنی روایات اور اپنے آثار کو ساری دنیا میں پھیلا دیا۔اس کی وجہ سے وہ طوفان کا قصہ جس نے یقیناً ان کے دلوں پر ایک گہرا اثر ڈال دیا ہوگا۔ان کے ساتھ ساتھ ہی سب دنیا میں پھیلتا گیا۔طوفان کا واقعہ ایک ہی ہے نہ مختلف ملکوں کے مختلف واقعات پس نہ یہ درست ہے کہ نوح کا طوفان سب دنیا پر آیا اور نہ یہ درست ہے کہ یہ سب قصص جو مختلف ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں مختلف واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔واقعہ ایک ہی ہے اور طوفان بھی ایک ہی ملک میں آیا ہے لیکن چونکہ نوح ؑ دور تہذیب کے انسان اول ہیں ان کی اور ان کے ساتھیوں کی اولاد طوفان کے بعد مختلف ممالک میں پھیل گئی اور اپنی اعلیٰ تہذیب اور بہتر تمدن کی وجہ سے اصلی باشندوں پر غالب آکر یا تو وہی باقی رہ گئی یا پھر ان کو اس نے ایسا مرعوب کرلیا کہ انہوں نے بھی نوح ؑ کی امت کی تہذیب کو اختیار کرلیا۔اور اس طرح دنیا کے ہر ملک میں طوفان نوح کا قصہ پہنچ گیا۔اور ایک لمبا زمانہ گذرنے پر جب باہر سے آنے والوں کو اپنے اصلی وطن سے کوئی تعلق نہ رہا تو ہر اک ملک کے شہروں ناموں اور مقام نے اس قصہ میں جگہ لے لی اور اس طرح یہ واقعہ مختلف واقعات کا رنگ اختیار کر گیا۔وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا اور عاد کی طرف (ہم نے) ان کے بھائی ہود کو (رسول بنا کر بھیجا )اس نے (یہ حکم پا کر انہیں) کہا اے میری قوم تم لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ۰۰۵۱ اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی بھی معبود نہیں ہے۔(اس کے شریک مقرر کرنے میں) تم محض افترا ء کرنے والے ہو۔تفسیر۔شرک کا عقیدہ محض افتراء ہے یعنی واقعات بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے اور شرک کا عقیدہ محض ایک افتراء ہے۔مطلب یہ کہ شرک کی تائید میں کوئی کمزور سے کمزور دلیل بھی نہیں جس سے یہ خیال بھی کیا جائے کہ اس عقیدہ کے پابند کسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔وہ صرف اپنے آبائی خیالات کی اندھادھند پیروی کررہے ہیں۔کیا قوم عاد کوئی تھی ہی نہیں عاد کے متعلق یورپین محققین کا خیال ہے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہیں ملتا۔وہ کہتے