تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 278
بائبل کی قدیم روایات بابل کی قدیم روایات میں طوفان کے ہیرو کا نام ہسیس اندرا دیا ہے۔اور لکھا ہے کہ وہ دسواں بادشاہ تھا۔بائیبل بھی آدم کی نسل سے نوح کو دسواں قرار دیتی ہے(پیدائش باب ۵)۔شمالی امریکہ کی روایتوں میں اس شخص کا نام کنیان بتایا ہے۔جس کے معنی عقلمند کے ہیں۔اور یہ نام معنوں کے لحاظ سے ہسیس اندرا کے نام سے جو بابل کی روایتوں میں آتا ہے ملتا ہے۔پالینیشیا، ایران، کنعان مصر اور ہندوستان میں بھی اس قسم کی روایات پائی جاتی ہیں کہ پرانے زمانے میں ایک سخت طوفان آیا تھا۔اور ایک خاص نیک بندے کے ذریعہ سے کچھ لوگ ایک کشتی میں بچے تھے۔چنانچہ بابل کی روایات اور ہندوستان کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان کے وقت کی ایک شخص کوقبل از وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے اطلاع دی گئی تھی بابل کی روایات میں لکھا ہے کہ خواب کے ذریعہ سے اطلاع ملی اور ہندوستان کی روایات میں لکھا ہے کہ دیوتاؤں نے اسے بتایا۔(انسائیکلوپیڈیا ببلیکا زیر لفظ Deluge) بابل کی روایتوں میں اس پہاڑ کو جہاں نوح کی کشتی ٹھہری تھی ارمینیا کا پہاڑ قرار دیا ہے۔اسلامی مفسروں نے بھی جودی جو اس پہاڑ کا نام قرآن کریم میں آیا ہے اسے آرمینیا کا پہاڑ قرار دیا ہے(الکشاف و ابن کثیر زیر آیت ھذا )۔اس طرح قرآن کریم کی روایت اس امر میں بابل کی روایت سے ملتی ہے اور بابل ہی چونکہ نوح ؑ کی اولاد کے رہنے کا مقام تھا جس پر خود بائیبل بھی گواہ ہے اس لئے وہاں کی روایت کو ایک حد تک ضرور فوقیت دینی پڑے گی۔خصوصاً جب کہ بابل والوں کو نوح کے واقعہ سے کوئی خاص فائدہ اٹھانا مقصود نہیں تھا۔برخلاف بائیبل کے کہ اس کی روایتوں میں یہ بات مدنظر ہوتی ہے کہ سب دنیا کی تاریخ انہی کے گرد چکر کھاتی رہے۔اس طوفان کا ذکر ہندوستان کی قدیم تاریخ میں ہندوستان میں اس طوفان کا ذکر سب سے پہلے ستھاپتھا برہمنا نامی کتاب میں ہے۔اس میں لکھا ہے کہ منو پہلا انسان تھا۔وہ سورج دیوتا دِوَسْوات کا بیٹا تھا۔وہ ایک دفعہ نہا رہا تھا کہ ایک مچھلی اس کے ہاتھ میں آ گئی۔مچھلی نے اس وعدہ پر نجات حاصل کی کہ ایک بڑا طوفان آنے والا ہے اس وقت میں تجھے نجات دوں گی۔اور اسے ایک کشتی تیار کرنے کی ہدایت کی۔جب طوفان آیا تو مچھلی کشتی کو پہاڑ پر لے گئی۔اور وہاں طوفان کے کم ہونے پر منو اترا اور اس نے قربانی کی آخر خدا تعالیٰ نے اسے ایک بیٹی (بغیر ماں کے) عطا کی اور اس سے (بغیر باپ کے) سب دنیا کی نسل چلی۔(شت پتھو برہمن اردو ترجمہ آٹھواں ادھیائے صفحہ ۱۱۲،۱۱۳) دوسری روایت مہابہارت میں ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ منو کے ساتھ سات عقلمند لوگ اور بھی تھے اور لکھا ہے کہ وہ مچھلی برھما یعنی خدا تھی اور اس نے منو کو دیوتا اور انسان بنانے سکھائے تھے۔