تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 277
ہے۔اس جگہ اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں۔نوح کا نام نوح کب رکھا گیا لیکن اس قدر بتا دینا فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ مدرش اغادہ میں لکھا ہے کہ نوح کا نام اس کے ہل ایجاد کرنے کے سبب سے نوح رکھا گیا تھا(جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ Noah)۔چونکہ بائیبل میں لکھا ہے کہ ان کے والد نے ان کا نام نوح رکھا۔اس لئے اس اختلاف کو کتاب سفر ہا یٰشیر میں یوں مٹایا گیا ہے کہ ان کے والد نے ان کا نام مناحیم رکھا تھا۔جس کے معنی تسلی دینے والے کے ہیں۔طوفان کے بعد ان کا نام نوح ہوا۔(جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ Noah) حضرت نوح کی نیکی کے متعلق یہودیوں کے مختلف اقوال نوح ؑ کی نیکی کے متعلق بھی اختلاف ہے۔بعض انہیں نیک ،بعض معمولی نیک۔اور بعض بدکار بھی کہتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ وہ محض اپنی نسل میں سے پیدا ہونے والے نیک لوگوں کی خاطر بچایا گیا۔حضرت نوح کی شریعت اور کتاب طالمود جو یہودیوں کی کتب احادیث کا مجموعہ ہے اس میں لکھا ہے کہ نوح شریعت والے نبی تھے اور انہوں نے طوفان کے اٹھائیس سال بعد شریعت مرتب کرنی شروع کی۔جس میں کچھ تو طبعیات کے مسائل تھے اور کچھ موسیٰ کی شریعت سے ملتے جلتے مسائل تھے۔رافائیل فرشتہ نے انہیں علم طب سکھایا تھا۔اور بوٹیوں کے خواص سکھائے تھے۔اس نے ایک کتاب لکھی جو بعد میں مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئی۔اور یونانیوں اور ہندوستانیوں نے اس کتاب سے علم طب حاصل کیا(جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ Noah)۔(یہودی علماء کو بھول گیا ہے کہ ان کے نزدیک سوائے نوح ؑ کے اور کسی انسان کی نسل دنیا میں باقی نہ رہی تھی اس وجہ سے سب دنیا میں نوح کی ہی اولاد تھی۔پھر انہیں کسی ترجمہ سے فائدہ اٹھانے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ تو اپنے دادا کے علوم کو اس کی اپنی زبان میں سمجھتے تھے مگر سچ ہے دروغ گو راحافظہ نباشد)۔طوفان نوح کا تاریخی ثبوت یہ ایک عجیب بات ہے کہ نوح کے واقعہ سے ملتے جلتے واقعات پر مبنی روایات دنیا کے قریباً ہر براعظم میں ملتی ہیں۔(دیکھو انسائیکلوپیڈیا ببلیکازیر لفظ Deluge) یونان کی قدیم روایات میں بھی ایک ایسے انسان اور اس کے وقت میں طوفان کا ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یورپ بھی اس قسم کے کسی تاریخی واقعہ سے واقف تھا۔شمالی امریکہ کے قدیم باشندوں کی روایات شمالی امریکہ کے قدیم باشندوں میں بھی ایسی روایات پائی جاتی ہیں۔حتیٰ کہ بعض جگہ ناموں کی مشارکت بھی ہے۔