تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 275

تقسیم کرتے ہیں۔یعنی سام حام اور یافث کی اولاد جو تینوں حضرت نوح ؑ کے بیٹے تھے۔قرآن کریم بتاتا ہے کہ دوسرے لوگوں کا تو کیا ذکر ہے خود حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کی نسلیں بھی چلیں۔اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ سے کون لوگ مراد ہیں وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ۔سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کے وقت میں بھی اور اقوام تھیں جو ہلاک نہیں کی گئیں بلکہ انہیں ڈھیل دی گئی۔اور وہ بعد میں اپنے وقت مقررہ پر ہلاک ہوئیں اور یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ اس میں اگلی نسلوں کا ذکر ہے کہ ان سلامتی اور برکت پانے والے لوگوں میں سے ایک گروہ بعد میں بگڑ کر سزا پائے گا۔تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَاۤ اِلَيْكَ١ۚ مَا كُنْتَ یہ (انذاری بیان) غیب کی (اہم) خبروں میں سے ہے جنہیں ہم تجھ پر وحی (کے ذریعہ سےنازل) کرتے ہیں تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ نہ تو ان کو اس سے پہلے جانتا تھا اور نہ تیری قوم (جانتی تھی)۔پس تو صبر سے کام لے (اچھا) انجام یقیناً الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَؒ۰۰۵۰ تقویٰ اختیار کرنے والوں کا (ہی ہوتا) ہے۔تفسیر۔یہ ذکر دراصل نوح ؑکے واقعہ کا نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی قوم کے مستقبل کا ہے اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کریم قصے بیان نہیں کرتا۔کیونکہ یہاں فرماتا ہے کہ یہ غیب کی خبریں ہیں یعنی آئندہ ہونے والے واقعات ہیں۔بے شک ظاہری طور پر تو حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر ہے مگر مطلب یہ ہے کہ نوح ؑ کے مشابہ واقعہ تیرے ساتھ بھی گزرے گا۔اسی وجہ سے آیت کے آخر میں فرمایا کہ تو بھی صبر سے کام لے۔انجام متقیوں کا ہی نیک ہوتا ہے۔یعنی جس طرح نوح ؑ کی قوم تباہ ہوئی تیری قوم کا ایک حصہ بھی تباہ ہوگا۔اور خدا تعالیٰ تجھ سے اور تیرے ساتھیوں سے ایک نئی نسل چلائے گا۔جو ہر نئے زمانہ میں نیکی اور تقویٰ کے جھنڈے کے علم بردار رہیں گے۔قرآن کریم گذشتہ قصے بیان نہیں کرتا تعجب ہے کہ اس قسم کی آیات کی موجودگی میں بھی بعض لوگ یہ خیال