تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 274
قِيْلَ يٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَيْكَ وَ عَلٰۤى (اس پر اسے) کہا گیا (کہ) اے نوح ! تو ہماری طرف سے (عطا شدہ) سلامتی اور (طرح طرح کی) برکات کے اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ مِّنَّا ساتھ جو تجھ پر اور جو( لوگ) کہ تیرے ساتھ ہیں ان میں سے کئی جماعتوں پر (نازل کی جاتی) ہیں اتر جا۔اور بعض عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۴۹ جماعتیں( ایسی بھی) ہیں جنہیں ہم ضرور( دنیا کا عارضی) سامان عطا کریں گے( مگر) پھر ان پر ہماری طرف سے دردناک عذاب آئے گا۔حلّ لُغَات۔بَرَکَاتٌ۔بَرَکَاتٌ بَرَکَۃٌ کی جمع ہے۔اَلْبَرَکَۃُ۔اَلنَّـمَاءُ نشوونما پانا ترقی کرنا اَلزِّیَادَۃُ۔بڑھنا، زیادہ ہوجانا۔اَلسَّعَادَۃُ اقبال مند ہونا۔خوش نصیب اور خوش حال ہونا۔ہر قسم کی نحوستوں اور کدورتوں سے پاک ہونا۔بَرَکَ کُلُّ شَیْءٍ بِالْمَکَانِ ثَبَتَ۔برک کے معنی ہیں قرار پذیر ہوا۔قائم ہو گیا۔اور بَارَکَ اللہُ فِیْکَ کے معنی ہیں طَھَّرَ۔پاک کیا۔ا ور بَارَکَہٗ کے معنی ہیں رَضِیَ عَنْہُ۔اس پر راضی ہوا۔(اَللّٰہُمَّ) بَارِکْ عَلَی الْاَنْبِیَآءِ وَاٰلِہِمْ أَیْ اٰدِم لَہُمْ مَااَعْطَیْتَہُمْ مِنَ التَّشْرِیْفِ وَالْکَرَامَۃِ اور جب اس کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو اور مفعول بصلہ عَلٰی ہو تو اس کے معنی شرف و عزت عطا کرنے اور اسے قائم رکھنے کے ہوتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔موجودہ سب نسل حضرت نوح سے نہیں چلی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے علاوہ دوسرے مومنوں کی بھی نسل چلی اور ان کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے برکات کے وعدے تھے۔اور یہ خیال جو لوگوں میں رائج ہے کہ سب لوگ حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد سے ہیں درست نہیں ہے۔بائیبل کے بیان پر قرآن کریم کے اس بیان کو کس قدر فوقیت حاصل ہے۔آج ہر ایک تعلیم یافتہ مسیحی دل میں یہ یقین رکھتا ہے کہ دنیا پر بسنے والے بنی نوع انسان صرف نوح علیہ السلام کی ہی اولاد نہیں ہیں لیکن وہ اس یقین کے وقت بائیبل کا مکذب ہوتا ہے اور قرآن کریم کا مصدق۔کیونکہ بائیبل کہتی ہے کہ صرف نوح اور ان کی اولاد اس طوفان سے بچے۔اور اسی کی نسل آئندہ دنیا میں پھیلی۔(پیدائش باب۷) چنانچہ وہ کل بنی آدم کو تین ہی نسلوں میں